تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 154 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 154

صاحب نے بابا صاحب کا مسلمان ہونا مندرجہ ذیل دلائل سے ثابت کیا: - ا - بابا صاحب مسلمان درویشوں سے ملاقات رکھتے تھے اور اُن کی صحبت میں رہتے تھے۔۲- بابا صاحب اسلامی طریق پر نماز اور روزہ کے پابند تھے۔- بابا صاحب نے ملکہ کا دُور دراز سفر اختیار کر کے اسلامی طریق پر حج کیا تھا۔۴- بابا صاحب اسلامی طریق پر توحید باری تعالیٰ اور رسالت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر ایمان لاتے تھے۔۵- بابا صاحب نے جابجا اپنے اسلامی عقائد کی اپنے متبعین کو بھی تعلیم دی ہے۔- بابا صاحب کا سب سے بڑا تبرک جو نسلاً بعد نسل سکھ قوم میں محفوظ چلا آیا ہے بابا صاحب کا ایک چولہ ہے جو ڈیرہ بابا نانک ضلع گورداسپور میں محفوظ ہے اور جس کے متعلق سکھوں کی مذہبی روایات بتاتی ہیں کہ یہ چولہ بابا صاحب کے لئے غیب سے ظاہر ہوا تھا اور اسی لئے یہ چولہ سکھوں میں بڑی عزت سے دیکھا جاتا ہے مگر جب یہ چولہ حضرت مرزا صاحب نے اپنے بعض دوستوں کے ساتھ کھلوا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس پر جابجا قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں اور اسلامی كلم لَا إِلَهُ إِلَّا اللهُ مُحمد رسُولُ اللہ بھی نمایاں طور پر لکھا ہے۔۷- فیروز پور کے ایک گوردوارہ میں بابا صاحب کا ایک تبرک ہے اُسے دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ قرآن شریف کا ایک نسخہ ہے۔۸ - بابا صاحب نے اپنے عمل اور اپنی تعلیم میں جابجا ہندو مذہب اور اس کے اصولوں اور اس کی کتاب یعنی وید کی تردید کی ہے اور اس کے خلاف تعلیم دی ہے اس لئے وہ یقینا ہند و عقائد کے متبع نہیں تھے۔۹ - سکھ مذہب کی کوئی شریعت نہیں ہے جس سے ظاہر ہے کہ وہ کوئی الگ مذہب نہیں ہے۔۱۰۔سکھوں کا عام تہذیب و تمدن بھی ظاہر کرتا ہے کہ اُن کا حقیقی تعلق اسلام کے ساتھ ہے اور سوائے ایسی باتوں کے جن میں وہ بعد میں ہندو مذہب کے اثر کے نیچے آگئے وہ اصولی طور پر 154