تبلیغِ ہدایت — Page 54
نام ہی ہوتا ہے نہ کہ ظاہری نام۔اب سوال ہوتا ہے کہ پھر وہ کونسی حکمت ہے جس کی وجہ سے خدا نے آنے والے مسیح" کو ابن مریم کے نام سے موسوم کیا ؟ اس کے جواب میں کئی باتیں پیش کی جاسکتی ہیں مگر اس مختصر سے رسالے میں سب کا لکھنا موجب طوالت ہوگا۔اس لئے چند موٹی موٹی حکمتوں کے بیان کرنے پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔اول یہ کہ آنے والا مسیح" حضرت عیسی کی خُو بو پر آنا تھا جس طرح حضرت الیاس کی خُو بو پر حضرت بیٹی آئے۔پس جس طرح حضرت بیٹی کے آنے سے حضرت الیاس کی آمد کا وعدہ پورا ہوا۔اسی طرح کسی مثیل مسیح کی آمد سے حضرت مسیح کی آمد کا وعدہ پورا ہونا تھا۔لہذا اس مشابہت کی وجہ سے موعود مسیح کا نام ابن مریم رکھا گیا۔دوسری حکمت یہ ہے کہ جس طرح مسیح ناصری موسوی سلسلہ کے خاتم الخلفاء تھے اسی طرح محمدی مسیح نے محمدی سلسلہ کا خاتم الخلفاء ہونا تھا۔تیسری اور بڑی حکمت یہ ہے کہ قرآن شریف اور احادیث سے ظاہر ہے کہ آخری زمانہ کے لئے یہ مقدر تھا کہ اس میں عیسائیت زور پکڑلے گی اور صلیبی مذہب بڑے غلبہ کی حالت میں ہوگا۔اسی لئے مسیح موعود کا بڑا کام یہ رکھا گیا کہ یکسر الصلیب یعنی مسیح موعود صلیبی مذہب کا زور توڑ دے گا۔اس میں حکمت یہ ہے کہ جب کسی نبی کی امت میں فساد برپا ہوتا ہے تو پھرا خلاقی طور پر اسی نبی کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس فساد کو دور کرے جیسا کہ اگر کسی حکومت میں فساد برپا ہو جاوے تو باہر کی حکومتوں کا فرض نہیں ہوتا کہ وہ اس فساد کو دور کریں بلکہ خود اس حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اسے دُور کرے۔پس چونکہ آخری زمانہ کے موعود کا ایک بڑا کام یہ تھا کہ وہ صلیبی مذہب کے فساد کو دُور کرے گا اس لئے حضرت عیسیٰ کی مماثلت میں آنے والے کا نام عیسی بن مریم اور مسیح رکھا گیا۔بلکہ آخری زمانہ کے لئے تو یہ بھی مقد رتھا کہ وہ فساد عظیم کا زمانہ ہوگا اور تمام امتوں میں فساد بر پا ہو جائے گا۔ایسے وقت کے لئے ضرورت تھی کہ تمام امتوں کے بانیوں کے بروز ظاہر ہوتے جن کا آنا خود ان بانیوں کا آنا سمجھا جاتا اور جو اپنی اپنی امتوں کی اصلاح کرتے لیکن چونکہ بہت 54