تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 55 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 55

سے مصلحوں کا ایک ہی وقت میں دنیا میں مبعوث ہونا فساد کو دور کرنے کی بجائے فساد کی آگ کو اور بھی بھڑکا دیتا۔پھر علاوہ اس کے چونکہ اب اسلام کی آمد نے تمام روحانی پانی اپنے اندر کھینچ لیا ہے اور اب کوئی روحانی مصلح اسلام کے سوا کسی امت میں ظاہر نہیں ہوسکتا اس لئے یہ مقدر ہوا کہ تمام نبیوں کے بروزوں کو ایک ہی وجود میں اسلام کے اندر مبعوث کیا جاوے اس آنے والے مصلح کا کام یہ رکھا گیا کہ وہ تمام امتوں کی اصلاح کرے گویا اس موعود مصلح کا کام دو بڑے حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ایک اُمت محمدیہ کی اصلاح اور دوسرے باقی تمام امتوں کی اصلاح لیکن چونکہ باقی امتوں کی اصلاح کے کام میں سب سے بڑا کام حضرت مسیح ناصری کی امت کی اصلاح اور اس کے عقائد باطلہ کا رڈ تھا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ یکسر الصلیب سے ظاہر ہے جو آپ نے اس موعود مصلح کے متعلق فرمائے۔اس لئے اس پہلو کے لحاظ سے آنیوالے کو خصوصیت کے ساتھ عیسی بن مریم کا خطاب دیا گیا۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں۔چوں مرا نورے پئے قوم مسیحی داده اند مصلحت را ابن مریم نام من بنهاده اند یعنی " چونکہ مجھے مسیحی قوم کی اصلاح کے لئے خاص نور عطا کیا گیا ہے اس لئے اس مصلحت سے میرا نام بھی ابن مریم رکھا گیا ہے“۔اس کے مقابل پر دوسری امتوں کی اصلاح کے لحاظ سے صرف وَإِذَا الرُّسُلُ اقتت۔(سوره مرسلات (۱) کے الفاظ استعمال کئے گئے یعنی ”آخری زمانہ میں رسول بروزی رنگ میں ایک ہی وجود کے اندر ) جمع کئے جائیں گئے۔مگر دوسری طرف امت محمدیہ کی اصلاح کا کام بھی ایک نہایت اہم کام تھا اس لئے اس پہلو کے لحاظ سے آنے والے کا نام محمد اور احمد بھی رکھا گیا۔کیونکہ اُمت محمدیہ کی اصلاح کے کام میں اس موعود نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظل اور بروز ہونا تھا۔(وفات مسیح وغیرہ کے مسئلہ پر کسی قدر مفصل بحث دیکھنی ہو تو خاکسار کی تصنیف ”الحجة البالغة“ ملاحظہ کریں) 55