تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 9 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 9

طرف کھینچنے کے قابل ہوتے ہیں اور درحقیقت یہی جذب وہ چیز ہے کہ جو سوتے ہووؤں کو جگاتی ہے۔چھٹے۔جب تک اصلاح واقعی اور یقینی طور پر صحیح اصلاح نہ ہو وہ مفید نہیں ہوسکتی بلکہ مضر ثابت ہوتی ہے۔مگر روحانی امور میں جو خدا سے تعلق رکھتے ہیں۔یقینی طور پر صحیح اصلاح سوائے اس کے ناممکن ہے کہ کسی ایسے مرد کامل کے ذریعہ سے ہو جو خدا کی طرف سے علم پانے والا ہو اور اس کے تازہ اور زندہ کلام سے زندگی یافتہ ہو ایک ظاہری عالم اپنے ظاہری علم کے ساتھ جو اصلاح کرے گا وہ اگر چار باتوں میں درست ہوگی تو بالکل ممکن ہے کہ دس باتوں میں غلط ہو۔پس آج اسلامی دنیا میں جو اختلافات کی کثرت ہے وہ کس طرح دُور ہوسکتی ہے جب تک کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم و عدل ہو کر اُس کا فیصلہ نہ کرے۔ساتویں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اسلام میں روحانی مصلح مبعوث ہوتے رہیں گے خود اس بات کی دلیل ہے کہ باوجود شریعت کے مکمل ہو جانے کے مصلحوں کی ضرورت ہے۔آٹھویں۔اسلام کے اندر ایسے لوگوں کا وجود بھی عملاً ان کی ضرورت کو ثابت کرتا ہے۔غرض ہر ظلمت کے وقت خدا کی طرف سے کسی روحانی مصلح کا مبعوث ہونا ضروری ہے اور عملاً بھی آج تک اسلام کے اندر اللہ تعالیٰ کی یہی سنت چلی آئی ہے کہ وہ اپنے الہام کے ساتھ اپنے پاک بندوں کو اسلام کی نصرت اور مسلمانوں کی اصلاح کے واسطے کھڑا کرتارہا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئی بھی یہی بتاتی ہے کہ ہر ظلمت کے وقت عموماً اور صدیوں کے سر پر خصوصاً مجد دمبعوث کئے جاویں گے۔آخری زمانہ کے متعلق ایک خطر ناک فتنہ کی پیشگوئی لیکن جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام محمد دین کی بعثت کے متعلق پیشگوئی فرمائی تھی وہاں آپ نے مسلمانوں کو اس بات کی بھی خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں غیر معمولی طور پر سخت 9