تبلیغِ ہدایت — Page 10
فتنوں کا ظہور ہو گا۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ:- صحیح علم مفقود ہو جائے گا اور قرآن شریف کی اصل تعلیم لوگوں کے دلوں سے محو ہو جائے گی ایمان دنیا سے اُٹھ جائے گا اور دہریت اپنا ز ور دکھائے گی لوگوں کے اعمال خراب ہو جائیں گے اور مسلمان اپنی بداعمالیوں میں یہودیوں کے قدم بقدم چلیں گے اور اُن میں آپس میں بہت اختلاف ہوگا اور مسلمانوں کے بہت سے فرقے ہو جا ئیں گے اور علماء کی حالت بھی خاص طور پر خراب ہو جائے گی حتی کہ آسمان کے نیچے علماء بدترین مخلوق ہونگے اور اسلام چاروں طرف سے مصائب کے اندر گھر جائے گا اور سارے مذاہب اسلام کے خلاف یورش کریں گے مگر عیسائی مذہب خصوصاً بہت زور پر ہوگا اور دجال اپنی فوجوں کے ساتھ اسلام پر حملے کرے گا۔غرض کیا اندرونی طور پر اور کیا بیرونی طور پر وہ زمانہ اسلام کے واسطے ایک نہایت مصیبت کا زمانہ ہوگا ایسا کہ نہ کبھی پہلے ایسا زمانہ آیا اور نہ آئندہ آئے گا۔(ملاحظہ ہو کتب احادیث ابواب الفتن وغیرہ) اسلام اور اہل اسلام کی موجودہ حالت اب دیکھ لو کہ وہ زمانہ آگیا ہے یا نہیں ؟ کیا واقعی مسلمانوں کی مذہبی حالت اوپر کے نقشہ کے مطابق نہیں؟ کتنے ہیں جو سچے دل سے خدا پر ایمان رکھتے ہیں؟ مگر زبان کا رسمی ایمان نہیں بلکہ وہ ایمان جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔کتنے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر دل سے یقین رکھتے ہیں؟ کتنے ہیں جو نزول وحی ، ملائکہ، بعث بعد الموت، تقدیر خیر وشر، جز اسز اوغیرہ پر دل سے ایمان لاتے ہیں؟ کتنے ہیں جو اسلامی تعلیم سے واقف ہیں؟ کتنے ہیں جو اسلام کی حقیقت کو سمجھتے ہیں؟ کتنے ہیں جو نماز، روزہ، حج، زکوۃ وغیرہ پر کار بند ہیں؟ کتنے ہیں جو دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہیں؟ کیا اسلامی دنیا کے اندر شراب خوری، زنا، قمار بازی، سود، ڈاکہ قتل، دھوکا، فریب، جھوٹ اکل بالباطل وغیرہ وغیرہ کا میدان گرم نہیں؟ پھر کیا مولویوں کی زندگی اسلامی زندگی کا سچا 10