تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 8 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 8

کے کہ وہ تعلیم اُن کے اندر موجود بھی تھی اللہ تعالیٰ نے ہر ظلمت کے زمانہ میں اپنی طرف سے کوئی مصلح مبعوث فرما کر اس کے ذریعہ سے امت موسویہ کی اصلاح کا کام لیا۔حتی کہ قرآن شریف فرماتا ہے کہ وَقَفَيْنَا مِن بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ۔(سوره بقره ع۱۱) یعنی ”ہم نے موسی کے بعد اس کی اتباع میں پے در پے رسول بھیجے۔تیرے تعلیم کے مکمل ہونے کے تو یہی معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام روحانی ترقیات کی را ہیں اس میں بتادی ہیں اور تمام ضروریات پوری فرما دی ہیں لیکن اگر لوگوں کی حاشیہ آرائی سے اس تعلیم کی صورت ہی بگڑ جاوے اور اس کی اصل روح مفقود ہو جاوے تو پھر وہ اس وقت تک کس طرح اصلاح کا کام دے سکتی ہے جب تک کہ تمام پر دوں کو اس کے اوپر سے اُتار کر اس کے اندر پھر اصل روح نہ داخل کی جاوے مکمل تعلیم بیشک ایک تلوار جو ہر دار کے طور پر ہے مگر اس کو چلانے والا بھی تو کوئی چاہیئے۔چوتھے۔ہر اک تعلیم خواہ وہ کیسی ہی کامل ہو زندہ نمونہ کے بغیر ناقص رہتی ہے پس روحانی مصلحوں کے ذریعہ جو سلوک کے تمام مراتب سے واقف ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ دنیا کے اندر اسلامی تعلیم کے نمونے قائم کرتا ہے۔پانچویں۔ایمان باللہ ایک ایسا درخت ہے کہ اُسے جب تک تازہ نشانات کا پانی نہ ملتا رہے وہ خشک ہو جاتا ہے اور ” ہے“ کی مستحکم چٹان سے اتر کر ہونا چاہئے“ کی پر خطر وادی میں آجا تا ہے جہاں شکوک و شبہات کی زہر آلود ہوائیں اُسے فوراً خشک کر دیتی ہیں۔مگر جو ایمان انبیاء اور اولیاء کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے وہ ایک زندہ حقیقت ہے جس سے باری تعالیٰ کی ہستی محسوس و مشہو ر ہو جاتی ہے اور انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ ذاتی تعلق پیدا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے اور اسے ایک نئی زندگی حاصل ہوتی ہے۔پس با وجود تعلیم مکمل ہونے کے ایسے وجودوں کی ضرورت باقی رہتی ہے جو خدا تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہوں اور جن کے ذریعہ سے تازہ نشانات کی نہر دنیا میں جاری رہے علاوہ ازیں یہ روحانی مصلح جو اللہ تعالیٰ کے زندہ کلام کے ساتھ دنیا میں قائم کئے جاتے ہیں اپنے اندر ایک خاص جذب اور کشش رکھتے ہیں جس کے ذریعہ سے وہ سعید روحوں کو اپنی 8