تبلیغِ ہدایت — Page 167
با وجود انسانی دست برد کے اب تک بھی کافی حد تک ان فاسد عقائد سے پاک ہیں جو ان کے متبعین میں عملاً پائے جاتے ہیں اور اصل تعلیم اور سچائی کا عصر ان سے بالکل ضائع نہیں ہوا۔یہی وجہ ہے کہ ان کتب میں ان باطل خیالات کے دلائل ملنا تو الگ رہا مجز دعوی ہی ثابت کرنا مشکل ہے۔غرض یہ ایک نہایت زبر دست اصول ہے جو حضرت مرزا صاحب نے بحث بین المذاہب کے متعلق قائم کیا ہے اور اگر اس کو مد نظر رکھ کر مخالفین اسلام کے ساتھ مقابلہ کیا جائے تو انہیں ایک قدم چلنا بھی محال ہو جاتا ہے اور ان کی مذبوحی حرکات طالب حق کو فیصلہ کرنے کیلئے بہت عمدہ موقعہ میسر کرتی ہیں۔ناظرین غور کریں کہ حضرت مرزا صاحب کی اس ایک ہی ضرب نے کس طرح سارے مذاہب کا فیصلہ کر دیا ہے !جب موجودہ مسیحی عقائد اور آریہ عقائد کے متعلق انجیل اور وید خاموش ہیں تو یقیناً اسلام کے مقابلہ میں مسیحیت اور آر یہ مذہب تو شکست فاش کھا گئے۔ہاں زید بکر، خالد کے خیالات رہ گئے۔سو ان کا بھی جو حال حضرت مرزا صاحب نے کیا ہے وہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔اسی طرح دوسرے مذاہب کا حال ہے۔دوسرا عظیم الشان اصول جو حضرت مرزا صاحب نے مختلف مذاہب کے باہمی مقابلہ کے متعلق پیش فرما یاوہ یہ تھا کہ کسی مذہب کی صداقت پر کھنے کے لئے صرف اُس کے ماضی اور مستقبل کو د یکھنا کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کے حال کو بھی دیکھنا چاہئے۔اگر کوئی مذہب اپنے ماضی کے متعلق تو بڑے زور دار قصے سناتا ہے اور مستقبل کے متعلق بھی بڑے بڑے وعدے دیتا ہے مگر حال کے زمانہ میں اپنے متبعین کے واسطے کوئی امید پیش نہیں کرتا تو ایسا مذہب ہرگز توجہ کے قابل نہیں بلکہ اس کی ساری تعلیم محض دھوکا ہے جس سے ہر عقلمند کو بچنا چاہئیے۔ظاہر ہے کہ ہمیں اس بات سے کیا غرض ہے کہ گذشتہ لوگوں نے کسی مذہب پر چل کر کیا پایا۔یا آئندہ کے لئے کوئی مذہب کیا وعدہ پیش کرتا ہے۔یہ دونوں زمانے تو ایک پردے کے پیچھے پوشیدہ ہیں۔جن کی اصل حقیقت کا علم صرف خدا کو حاصل ہے ہمیں تو جس چیز سے غرض ہے وہ خود ہمارا حال ہے اگر ہمارا حال“ درست نہیں ہوتا تو گذشتہ زمانوں کی تاریخ ہمارے لئے ایک قصے اور مستقبل کے وعدے ایک سراب سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے۔البتہ اگر ایک مذہب حال کے زمانہ میں ہمیں وہ پھل دے 167