تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 168 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 168

دیتا ہے جو ایک بچے مذہب سے متوقع ہے تو بے شک ہم گذشتہ قصوں کو بھی سچا خیال کر سکتے ہیں اور مستقبل کے بارے میں بھی مذہب کے وعدوں پر یقین رکھ سکتے ہیں مگر محض ماضی اور مستقبل کا حوالہ ہمیں قطعا کوئی تسلی نہیں دے سکتا۔پس حضرت مرزا صاحب نے دوسرا اصول یہ بیان فرمایا کہ بچے مذہب کا معیار یہ ہے کہ وہ اپنے شیرین اور تازہ پھل دست بدست پیش کرے اور صرف گذشتہ قصوں یا آئندہ کے وعدوں پر نہ ٹالے۔مثلاً اگر کسی مذہب کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ انسان کو خدا تک پہنچاتا ہے تو انسانی فطرت کی تسلی کے لئے یہ بات ہرگز کافی نہیں سمجھی جا سکتی کہ ہمیں کسی کتاب میں یہ لکھا ہوا دکھا دیا جائے کہ گذشتہ زمانوں میں اس مذہب کے پیرو خدا تک پہنچتے رہے ہیں یا یہ کہ یہ مذہب دعویٰ کرتا ہے کہ مرنے کے بعد اسکے متبعین خدا کو پالیں گے یہ دونوں تسلیاں طفل تسلیوں سے بڑھ کر نہیں اور کوئی عقلمند انسان محض اس قسم کی تسلی پر مطمئن نہیں ہو سکتا بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارا مذہب ہمیں اسی زندگی میں خدا تک پہنچا دے اور ہم خدا کے یقینی جلوے کو اسی دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور اس کے قرب کو ایک زندہ حقیقت کے طور پر محسوس کر لیں اور اگر ہم اسے لطیف اور غیر محدود اور وراء الوراء ہونے کی وجہ سے دیکھ نہیں سکتے۔تو کم از کم اس کے زندگی بخش کلام کو اپنے کانوں سے سن لیں اور اس کے نشانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں تا کہ خدا کا وجود ہمارے لئے ایک محض عقلی استدلال کا نتیجہ نہ رہے بلکہ ایک زندہ اور محسوس و مشہور ہستی کا رنگ اختیار کر لے۔ایسی حالت میں بے شک گذشتہ قصے بھی ہمارے لئے ایک زندہ سبق ہو جائیں گے اور آئندہ کے وعدے بھی ایک خیالی چیز نہیں رہیں گے۔مگر غور کرو کہ دنیا کے کتنے مذہب ہیں جو ہمارے لئے اس قسم کی زندگی کا سامان مہیا کرتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے دعویٰ کیا کہ یہ روحانی زندگی جو حال کے تازہ بتازہ پھلوں سے حاصل ہوتی ہے صرف اسلام میں ملتی ہے اور دوسرا کوئی مذہب اس زندگی کے آثار نہیں دکھا سکتا کیونکہ باقی سب کا دارو مدار محض ماضی کے قصوں یا مستقبل کے وعدوں پر ہے مثلاً مسیحیوں میں کوئی شخص ایسا نہیں ملے گا جو زمانہ حال میں شرف مکالمہ مخاطبہ الہیہ سے مشرف اور خدا کے تازہ 168