تبلیغِ ہدایت — Page 141
دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی خلقت اور شمائل کا شخص ہے گویا انسان نہیں ملائک شداد و غلاظ میں سے ہے اور اس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی اور میں اس کو دیکھتا ہی تھا کہ اُس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھرام کہاں ہے اور ایک اور شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے۔تب میں نے اس وقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھر ام اور اس دوسرے شخص کی سزا دہی کے لئے مامور کیا گیا ہے مگر مجھے معلوم نہیں رہا کہ وہ دوسرا شخص کون ہے“۔(دیکھو تبلیغ رسالت) پھر آپ نے ۱۸۹۳ء میں اپنی کتاب برکات اللہ عا میں سرسید احمد خاں صاحب کو مخاطب کر کے لکھا کہ ایکہ گوئی گر دُعا ہارا اثر بودے کجا است سوئے من بشتاب بنمائم تر اچوں آفتاب ہاں مکن انکار زین اسرار قدرتہائے حق قصہ کوتاہ کن ہیں از ما دُعائے مستجاب ( یعنی دعائے موت لیکھرام ) یعنی ”اے وہ شخص جو کہتا ہے کہ اگر دعا میں کچھ اثر ہوتا ہے تو وہ کہاں ہے میری طرف آکہ میں تجھے دُعا کا اثر سورج کی طرح دکھاؤں گا تو خدا کی بار یک دربار یک قدرتوں سے انکار نہ کر اور اگر دُعا کا اثر دیکھنا چاہتا ہے تو آ اور میری اس دُعا کا نتیجہ دیکھ لے جس کے متعلق خدا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ قبول ہوگئی ہے یعنی لیکھرام کے متعلق میری دُعا۔یہ یا درکھنا چاہئے کہ الفاظ دُعائے مستجاب پر جو دعائے موت لیکھرام“ کا حاشیہ درج ہے یہ بھی اسی وقت کا ہے۔(دیکھو برکات الدعا) پھر آپ نے اپنی کتاب کرامات الصادقین میں ۱۸۹۳ء میں لکھا وبشرني ربى وقال مبشرا ستعرف يوم العيد والعيد اقرب یعنی " مجھے لیکھرام کی موت کی نسبت خدا نے بشارت دی اور کہا کہ عنقریب تو اُس عید 141