تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 142 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 142

کے دن کو پہچان لے گا اور اصل عید کا دن بھی اس عید کے قریب ہوگا“۔چنانچہ یہ بات کہ پنڈت لیکھرام کی موت عید کے دن کے قریب ہوگی بعض آریہ سماج کے اخباروں میں بھی شائع ہو گئی تھی۔( مثلاً دیکھو اخبارسا چار وغیرہ) حضرت مرزا صاحب کی طرف سے تو یہ پیشگوئی ہوئی اب دیکھو کہ پنڈت لیکھرام کی طرف سے کیا وقوع میں آیا۔پنڈت صاحب نے اپنی ایک کتاب میں حضرت مرزا صاحب کے مقابل پر لکھا: - کسی دانا کے اس مقوله پر که در ونگو را تا بدروازہ باید رسانید عمل کر کے مرزا صاحب کی اس آخری التماس کو بھی منظور کرتا ہوں اور مباہلہ کو یہاں پر طبع کرا کر مشہور۔میں نیاز التیام لیکھر ام ولد پنڈت تارا سنگھ صاحب شرما مصنف تکذیب براہین احمدیہ و رسالہ ہذا اقرار صحیح بدرستی ہوش و حواس کر کے کہتا ہوں کہ میں نے اوّل سے آخر تک سرمہ چشم آریہ کو پڑھ لیا اور ایک بار نہیں بلکہ کئی بار۔اور اس کے دلائل کو بخوبی سمجھ لیا بلکہ اُن کے بطلان کو بروئے ست دھرم رسالہ ہذا میں شائع کیا۔میرے دل میں مرزا جی کی دلیلوں نے کچھ بھی اثر نہیں کیا اور نہ وہ راستی سے متعلق ہیں۔میں اپنے جگت پتا پر میشور کو ساکھی جان کر اقرار کرتا ہوں کہ جیسا کہ ہر چہاروید مقدس ارشاد ہدایت بنیاد ہے اس پر میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ میری رُوح اور تمام ارواح کو کبھی نیستی یعنی قطعی ناش نہیں ہے اور نہ کبھی ہوا اور نہ ہوگا۔میری روح کو کسی نے نیست سے ہست نہیں کیا بلکہ ہمیشہ سے پر ماتما کی انادی قدرت میں رہا اور رہے گا۔ایسا ہی میرا جسمی مادہ یعنی پر کرتی یا پر مانو بھی قدیمی یا انادی پر ماتما کے قبضہ قدرت میں موجود ہیں۔کبھی مفقود نہیں ہونگے اور تمام جگت کا سر جنہار ایک ہی کرتا رہے دوسرا کوئی نہیں۔میں پر میشور کی طرح تمام دنیا کا مالک یا صانع نہیں ہوں اور نہ سرب بیا پک ہوں اور نہ انتر یامی بلکہ اس مہمان شکتی مان کا ایک ادنی سیوک ہوں۔مگر اس کے گیان اور شکتی میں ہمیشہ سے ہوں معدوم 142