تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 140 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 140

ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی رُوح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیشگوئی میں کا ذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے میں تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رستہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جاوے“۔اسی اشتہار مورخہ ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کے ابتداء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیکھرام کے متعلق یہ فارسی اشعار بھی لکھے الا اے دشمن نادان و بے راہ بترس از تیغ بران محمد ره مولی که گم کردند مردم بیجو در آل واعوان محمد الا اے منکر از شان محمد هم از نور نمایان محمد کرامت گرچه بے نام و نشان است بیا بنگر ز غلمان محمدم یعنی ”خبر داراے اسلام کے نادان اور گمراہ دشمن ! ( تو اپنی زبان کی خنجر کو ذرا سنبھال کر رکھ اور ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کاٹنے والی تلوار سے ڈراور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا رستہ جسے لوگ کھو بیٹھے ہیں اور اُسے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزندوں اور آپ کے لائے ہوئے دین کے مددگاروں میں تلاش کر۔ہاں اے وہ شخص جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور آپ کے کھلے کھلے نور کا منکر ہے اگر چہ اس زمانہ میں کرامت کا وجود عنقا ہورہا ہے مگر آ اور ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے سامنے آکر اُس کا مشاہدہ کر۔پھر ۱/۲ پریل ۱۸۹۳ ء کو آپ نے اشتہار کے ذریعہ اعلان کیا کہ:- آج جو ۲ را پریل ۱۸۹۳ ء مطابق ۱۴ / ماه رمضان ۱۰ ساھ ہے صبح کے وقت تھوڑی سی غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں ایک وسیع مکان میں بیٹھا ہوا ہوں اور چند دوست بھی میرے پاس موجود ہیں۔اتنے میں ایک شخص قوی ہیکل ، مہیب شکل گویا اس کے چہرہ پر سے خون ٹپکتا ہے میرے سامنے آکر کھڑا ہو گیا ہے۔میں نے نظر اٹھا کر 140