تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 115 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 115

حملوں سے بالکل محفوظ ہو گیا۔فالحمد لله على ذلك۔مسیح موعود کے اس کام کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ خود دوسرے مذاہب پر حملہ آور ہو کر انہیں مغلوب کیا جاوے۔سو یہ کام بھی نہایت خیر و خوبی سے انجام پایا اور پارہا ہے۔ہندوستان (اس جگہ تقسیم سے پہلے کا ہندوستان مراد ہے ) مذاہب کا جولانگاہ رہا ہے دنیا میں اور کوئی ایسا ملک نہیں جس میں اتنے مذاہب اس زور میں پائے جاتے ہوں جیسا کہ یہاں پائے جاتے ہیں اور پھر ہندوستان میں بھی خصوصاً پنجاب کا صوبہ مذاہب کا مرکز ہے عیسائیوں کا یہاں زور ہے آریوں کا یہاں زور ہے سکھوں کا یہاں زور ہے۔برہمو سماج کا یہاں زور ہے۔دیو سماج کا یہاں زور ہے۔غرض کوئی ایسا مذ ہب نہیں جو زندگی کے کچھ آثار اپنے اندر رکھتا ہو اور پھر پنجاب اُس سے خالی ہو۔پس پنجاب ہی اس بات کے مناسب حال تھا کہ مسیح موعود اس میں مبعوث کیا جاوے تا سارے مذاہب اس کے ساتھ اپنا زور آزما کر دیکھ سکیں اور تا وہ سارے مذاہب کا مقابلہ کر کے اُن کو مغلوب کر سکے۔اب جاننا چاہئے کہ حضرت مرزا صاحب نے ان سب مذاہب پر دونوں رنگ میں حجت پوری کی۔یعنی اول عقل اور نقل کے طریق سے ان کا بطلان ثابت کیا دوسرے خدائی نشانوں اور روحانی طاقتوں کے ساتھ انہیں مغلوب اور اسلام کو غالب کر دکھایا۔حضرت مرزا صاحب کا مسیحیت سے مقابلہ پہلے ہم مسیحیت کو لیتے ہیں کیونکہ کئی لحاظ سے اس کا حق مقدم ہے سو جاننا چاہئے کہ مسیحیت کی بنیاد تین اصول پر ہے:۔اول تثلیث :- یعنی یہ عقیدہ کہ خدا کے تین اقنوم ہیں (۱) باپ جو عرف میں خدا کہلاتا ہے۔(۲) بیٹا یعنی مسیح ناصری جو جامہ انسانیت میں دنیا پر اُترا اور (۳) رُوح القدس جو گویا بیٹے اور باپ کے درمیان واسطہ ہے۔عیسائیوں کے نزدیک یہ تین خدا الگ الگ اور مستقل خدا ہیں۔مگر پھر بھی بزعم مسیحی صاحبان خدا تین نہیں ہیں بلکہ ایک ہی خدا ہے۔دوسرا اصل مسیحیت کا الوہیت مسیح ہے یعنی یہ عقیدہ کہ مسیح ناصری جو دنیا میں نازل ہواوہ گو 115