تبلیغِ ہدایت — Page 116
انسان کے لباس میں اترا تھا مگر دراصل وہ خدا یعنی خدا کا بیٹا تھا اور خدا نے اُسے اسلئے بھیجا تھا کہ وہ اپنی قربانی سے بنی نوع انسان کو گناہ سے نجات دے۔تیسرا اصولی عقیدہ اس مذہب کا کفارہ ہے۔یعنی یہ کہ مسیح ناصری نے صلیبی موت جو موسوی شریعت کے مطابق ایک لعنتی موت تھی بنی نوع انسان کے لئے برداشت کی اور اس طرح تمام ان لوگوں کے گناہ جو اس کی صلیبی موت پر ایمان لائے اُس نے اپنے سر پر اٹھالئے اور وہ اس لعنت کے بوجھ کے نیچے تین دن تک دبا رہا۔اس کے بعد وہ زندہ ہو کر پھر پہلے کی طرح اپنے باپ خدا کے دائیں ہاتھ آسمان پر جا بیٹھا۔ان اصولی عقائد کے ضمن میں مسیحیوں کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ رحم بلا مبادلہ یعنی تو بہ واستغفار سے گناہ معاف کر دینا خدا کی صفت عدل کے خلاف ہے اور یہ کہ انسان کو گناہ کا مادہ آدم و حوا سے ورثہ میں ملا ہے پس کوئی بشر کلیۂ گناہ سے پاک نہیں ہوسکتا اور چونکہ دوسری طرف گناہ معاف نہیں ہوتا لہذا ضروری ہوا کہ نجات کے لئے کسی اور بیرونی چیز کی حاجت پیش آئے اور یہ وہی کفارہ یعنی مسیح کی صلیبی موت ہے۔پھر ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ شریعت ایک لعنت ہے جس سے ہمیں مسیح نے آزاد کر دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔اس تمہیدی نوٹ کے بعد اس عظیم الشان اور مقدس جنگ کا ذکر کیا جاتا ہے جو حضرت مرزا صاحب اور مسیحی دنیا کے درمیان واقع ہوئی اور جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق صلیب ٹوٹ گئی اور قتل دجال کے آثار ظاہر ہو گئے۔یوں تو حضرت مرزا صاحب اوائل عمر سے ہی مسیحیوں کے ساتھ اس روحانی جنگ کا کچھ نہ کچھ سلسلہ جاری رکھتے تھے چنانچہ اس امر کی معتبر شہادت موجود ہے کہ جب آپ بالکل نوجوان تھے اور سیالکوٹ میں ملازم تھے۔پادری بٹلر وغیرہ کے ساتھ آپ کی مذہبی گفتگو ہوتی رہتی تھی اور پھر براہین احمدیہ کا اشتہار بھی گویا سب عیسائیوں کے لئے چیلنج تھا مگر خاص طور پر ۱۸۸۴ء کے قریب جبکہ براہین احمدیہ کا چوتھا حصہ طبع ہوا آپ نے انگریزی اور اردو میں ایک اشتہار میں ہزار کی تعداد میں چھپوا کر شائع کیا اور اس اشتہار کی اشاعت کے سلسلہ کو ایسا وسیع کیا کہ یورپ کے مختلف ممالک اور امریکہ اور دوسرے ممالک میں بھی 116