تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 114 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 114

ہوئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔پادری نے مفتی صاحب کی یہ تقریر سنی تو کہنے لگا۔معلوم ہوتا ہے تم قادیانی ہو۔ہم تم سے بات نہیں کرتا اور یہ کہہ کر اس نے اپنی تقریر بند کر دی۔اب دیکھو یہ عقائد کس قدر خطر ناک ہیں مگر حضرت مرزا صاحب نے ان سب کو باطل اور غلط ثابت کر دیا اور قرآن وحدیث سے ثابت کیا کہ یہ سب خیالات بعد کی ملاوٹ ہیں جس کی قرآن اور صحیح احادیث میں کوئی بھی اصل نہیں اور اس طرح آپ نے ایک ہی وار میں دجال کی ایک ٹانگ توڑ دی کیونکہ دجال کی دو ٹانگیں تھیں۔ایک ٹانگ تو مسلمانوں کے بگڑے ہوئے خیالات تھے جن کی وجہ سے اُسے سہاراہل گیا تھا اور اسلام کے خلاف کام کرنا بہت آسان ہو گیا تھا اور دوسری ٹانگ خود دجال کے اپنے باطل خیالات تھے جن کے زور کی وجہ سے وہ ایک سیلاب کی طرح اُمڈا چلا آتا تھا۔الغرض اسلام کے خلاف جو غیر مذاہب کے حملے ہورہے تھے ان کا ایک بڑا حصہ خود مسلمانوں کے اپنے بگڑے ہوئے خیالات پر مبنی تھا۔چنانچہ ان فاسد خیالات کی مدلل طور پر اصلاح ہو جانے سے بیرونی حملوں کا یہ حصہ بالکل باطل ہو گیا۔یہ ایک بہت بھاری خدمت تھی جو حضرت مرزا صاحب نے انجام دی اور یہ ایک عظیم الشان احسان ہے جو آپ نے مسلمانوں پر فرمایا۔اور آپ کے اس فعل سے امت محمدیہ کو دو بڑے فائدے پہنچے۔اول یہ کہ ان باطل اور فاسد خیالات سے خود مسلمانوں کی حالت نہایت ابتر ہورہی تھی اور ان عقائد نے اُن کے ایمان کے شہتیر کو گھن لگا رکھا تھا۔پس ان عقائد کی اصلاح سے مسلمانوں کی حالت سنور گئی اور اُن کا ایمان تباہ ہونے سے بچ گیا۔دوسرے یہ کہ ان عقائد کی وجہ سے اسلام غیر مذاہب کے خطرناک حملوں کا نشانہ بنا ہوا تھا یعنی مسلمانوں کے ان باطل خیالات کی وجہ سے خواہ وہ عام تھے یا خاص مسیح ناصری کے متعلق کفار کو اسلام پر حملہ کرنے کا ایک بہت بڑا موقعہ ہاتھ آ گیا تھا اور چونکہ مسلمان ان فاسد خیالات کو اپنے دین و مذہب کا حصہ خیال کرتے تھے اور بزعم خود قرآن و حدیث سے ہی اُن کا استنباط کرتے تھے اس لئے حالت اور بھی خطرناک صورت اختیار کر گئی تھی۔کیونکہ اس صورت میں ز ذ صرف مسلمانوں پر ہی نہ پڑتی تھی بلکہ اسلام پر بھی ایک کاری ضرب لگتی تھی۔مگر ان خیالات کے باطل ثابت ہونے سے اسلام اس قسم کے تمام 114