تبلیغِ ہدایت — Page 92
جگہ کی ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی مولوی محمد صاحب لکھو کے والے نے اس نشان کے ظاہر ہونے سے پہلے لکھا تھا کہ تیرھویں چند ستیہو میں سورج گرہن ہوسی اس سالے اندر ماہ رمضانے لکھیا ایہہ ایک روایت والے اس شعر میں مولوی صاحب نے غلطی سے اٹھائیسویں تاریخ کی جگہ ستائیسویں تاریخ لکھ دی ہے مگر بہر حال اصول وہی تسلیم کیا ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ واقعات نے بھی اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ پہلی تاریخ سے تیرھویں تاریخ اور درمیانی تاریخ سے اٹھائیسویں تاریخ مراد ہے۔الغرض یہ نشان ایسا واضح طور پر پورا ہوا ہے کہ کسی حیلہ و جنت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔چنانچہ معتبر ذرائع سے سنا گیا ہے کہ جب یہ نشان پورا ہوا تو بعض مولوی صاحبان اپنی رانوں پر ہاتھ مارتے تھے اور کہتے تھے کہ اب خلقت گمراہ ہوگی۔اب خلقت گمراہ ہوگی“۔یہ بھی عَلَمَاءُهُمُ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ ( یعنی مسیح موعود کے وقت میں علماء دنیا کی بدترین مخلوق ہونگے ) کی ایک واضح مثال ہے کہ ادھر خدا کا نشان ظاہر ہورہا ہے اور ادھر مولوی صاحبان کو یہ غم کھائے جارہا ہے کہ یہ نشان کیوں ظاہر ہوا کیونکہ لوگ اس سے ہمارے پھندے سے نکل کر مرزا صاحب کو ماننے لگ جاویں گے۔افسوس! صد افسوس!! اے بد بخت فرقۂ مولویان ! تم نے کثیر التعداد سادہ لوح مخلوق خدا کو گمراہ کر دیا۔تمہارے بہکانے میں آ کر لوگوں نے دیکھتے ہوئے نہ دیکھا اور سنتے ہوئے نہ سنا اور سمجھتے ہوئے نہ سمجھا۔خدا سے ڈرو کہ ایک دن اس کے سامنے کھڑے کئے جاؤ گے۔ساتویں علامت ساتویں علامت یہ بتائی گئی تھی کہ مسیح موعود کے زمانہ میں دابۃ الارض کا خروج ہو گا جو لوگوں کو کاٹے گا اور مومن و کافر میں امتیاز کر دے گا اور ملک میں چکر لگائے گا۔چنانچہ قرآن شریف میں بھی اس کا ذکر موجود ہے جہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔92