تبلیغِ ہدایت — Page 93
وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةٌ مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِأَيْتِنَا لَا يُوْقِنُونَ (سورۃ نمل ع۶) یعنی ” جب ( مسیح موعود کے بھیجنے سے ) خدا کی حجنت اُن پر پوری ہو جائے گی تو ہم زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے جولوگوں کو کاٹے گا اور انہیں زخمی کرے گا۔یہ اس لئے ہوگا کہ لوگ خدا کے نشانوں پر ایمان نہیں لائیں گئے۔پھر احادیث میں بھی کثرت کے ساتھ قرب قیامت کی علامات میں دابتہ الارض کا ذکر پایا جاتا ہے۔(دیکھو بخاری و مسلم ) اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایک کیٹر اخروج کرے گا جو ملک میں چکر لگائے گا اور مومنوں اور کافروں میں امتیاز کرتا جاوے گا۔اب دیکھ لو کہ طاعون نے حضرت مرزا صاحب کے زمانے میں ظاہر ہو کر اس علامت کو کس وضاحت کے ساتھ پورا کر دیا ہے۔یہ بات مسلم ہے کہ طاعون کی بیماری ایک کیڑے سے پیدا ہوتی ہے اور دابۃ الارض کے معنے بھی ایک زمینی کیڑے کے ہیں چنانچہ قرآن شریف میں دوسری جگہ آتا ہے دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأكُلُ مِنْسَاتَهُ ( سورۃ سباع (۲) یعنی ایک زمینی کیٹر ا حضرت سلیمان کے عصا کو کھا تا تھا۔اس جگہ سب مفسرین دابۃ کے معنے کیڑے کے کرتے ہیں پس کوئی وجہ نہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونے والے دابۃ الارض سے کیڑے کے سوا کوئی اور معنے لئے جاویں اور دوسری روایات میں جو اس دابۃ کی علامات وارد ہوئی ہیں وہ مجاز اور استعارہ کے طور پر ہیں اور حق یہی ہے کہ طاعون ہی دابۃ الارض ہے جس نے مسیح موعود کے وقت میں ظاہر ہو کر حق و باطل میں امتیاز کر دیا ہے واقعی اس نے منکروں کے ماتھے پر بھی ایک نشان لگایا اور مومنوں کے ماتھے پر بھی ایک نشان لگایا اور اسطرح دونوں جماعتوں کو ممتاز کر دیا یہ ایک بین حقیقت ہے کہ جو ترقی احمد یہ جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں طاعون کے ذریعہ سے ہوئی ہے وہ اور کسی ذریعہ سے نہیں ہوئی۔اس بیماری نے حضرت مرزا صاحب کے مخالفوں کو چن چن کر لیا ہے اور دوسری طرف حضرت مرزا صاحب اور آپ کے حواری اس کے اثر سے گویا بالکل محفوظ رہے۔پس یہی وہ سفید وسیاہ نشان ہیں جو دابتہ الارض نے لگائے ہیں جن ایام میں ملک میں طاعون کا زور تھا - 93