تبلیغِ ہدایت — Page 91
وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ۔(سورة القيامة ع۱) یعنی چاند کو گرہن لگے گا اور اس گرہن میں سورج بھی چاند کے ساتھ شامل ہوگا۔یعنی اُسے بھی اسی مہینہ میں گرہن لگے گا۔اب دیکھو کس صفائی کے ساتھ یہ علامت پوری ہو کر ہمیں بتا رہی ہے کہ یہی وہ وقت ہے جس میں مہدی کا ظہور ہونا چاہئے کیونکہ جو اس کے ظہور کی علامت تھی وہ پوری ہو چکی ہے۔بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ حدیث مرفوع نہیں بلکہ حضرت امام محمد باقر تک پہنچ کر رُک جاتی ہے۔دوسرے یہ کہ اس میں چاند گرہن رمضان کی اوّل رات میں اور سورج گرہن رمضان کے وسط میں بیان کیا گیا ہے۔حالانکہ عملاً چاند کا گرہن تیرھویں میں اور سورج کا گرہن اٹھائیسویں میں ہوا تھا ؟ ان اعتراضات کا جواب یہ ہے کہ بے شک یہ حدیث ظاہر اموقوف ہے لیکن محدثین کے اصول کے مطابق یہ روایت حکماً مرفوع ہی ہے۔پھر یہ بھی تو دیکھو کہ راوی کون ہے؟ کیا وہ اہل بیت نبوی کا درخشندہ گوہر نہیں؟ اور یہ بات بھی سب لوگ جانتے ہیں کہ ائمہ اہل بیت کا یہ طریق تھا کہ بوجہ اپنی ذاتی وجاہت کے وہ سلسلۂ حدیث کو نام بنام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانا ضروری نہیں سمجھتے تھے۔یہ عادت اُن کی شائع اور متعارف ہے اور بہر حال یہ حدیث ہم نے نہیں بنائی بلکہ آج سے تیرہ سو سال پہلے کی ہے۔دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ چاند کو مہینے کی پہلی تاریخ میں اور سورج کو وسط میں گرہن لگنا سنّت اللہ اور قانونِ قدرت کے خلاف ہے۔قانونِ قدرت نے جو خدا کا بنایا ہوا قانون ہے چاند کے گرہن کو قمری مہینے کی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں میں اور سورج کے گرہن کو ستائیسویں، اٹھائیسویں اور انتیسویں میں محدود کر دیا ہے۔پس پہلی تاریخ سے ان تاریخوں میں سے پہلی اور درمیانی تاریخ سے ان تاریخوں میں سے درمیانی مراد ہے نہ کہ مطلقا مہینہ کی پہلی اور درمیانی تاریخ۔اس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ مہینے کی ابتدائی راتوں کا چاند عربی زبان میں ہلال کہلاتا ہے مگر حدیث میں قمر کا لفظ رکھا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں ابتدائی رات مراد نہیں۔علاوہ ازیں ہمیشہ سے مسلمان علماء ان تاریخوں کے متعلق یہی تشریح کرتے رہے ہیں جو ہم نے اس 91