تبلیغِ ہدایت — Page 90
چھٹی علامت چھٹی علامت مسیح و مہدی کی یہ بیان کی گئی تھی کہ اس کے زمانہ میں معینہ تواریخ میں چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔چنانچہ امام محمد باقر سے روایت آتی ہے کہ :۔ان لمهدينا أيتين لم تكونا منذ خلق السموت والارض ينكسف القمر لاول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس في النصف منه (دار قطنی جلد اول صفحه (۱۸۸) یعنی ” ہمارے مہدی کے لئے دو نشان مقرر ہیں اور جب سے کہ زمین اور آسمان پیدا ہوئے ہیں یہ نشان کسی اور مامور کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ مہدی معہود کے زمانہ میں رمضان کے مہینے میں چاند کو اس کی پہلی رات میں گرہن لگے گا ( یعنی تیرھویں تاریخ میں کیونکہ چاند کے گرہن کے لئے خدائی قانونِ قدرت میں تیرھویں اور چودھویں اور پندرھویں تو اریخ مقرر ہیں جیسا کہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں) اور سورج کو اس کے درمیانی دن میں گرہن لگے گا ( یعنی اسی رمضان کے مہینہ میں اٹھائیں تاریخ کو کیونکہ سورج گرہن کے لئے قانونِ قدرت میں ستائیس، اُٹھائیس اور انتیس تواریخ مقرر ہیں ) اب تمام دنیا جانتی ہے کہ السلاھ مطابق ۱۸۹۴ء میں یہ نشانی نہایت صفائی کے ساتھ پوری ہو چکی ہے۔یعنی اس ا ھ کے رمضان میں چاند کو اس کی راتوں میں سے پہلی رات میں یعنی تیرھویں تاریخ کو گرہن لگا اور اسی مہینہ میں سورج کو اس کے دنوں میں سے درمیانی دن یعنی اٹھائیس تاریخ کو گرہن لگا اور یہ نشان دو مرتبہ ظاہر ہوا۔اوّل اس نصف گرہ زمین میں اور پھر امریکہ میں اور دونوں مرتبہ انہی تاریخوں میں ہوا جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے۔اور یہ نشانی صرف حدیث ہی نے نہیں بتائی بلکہ قرآن شریف نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔جیسا کہ فرمایا:- 90