تبلیغِ ہدایت — Page 89
کی تھی حقارت اور استخفاف کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں۔شرک جس کے خلاف سارا قرآن شریف بھرا پڑا ہے مسلمانوں کی حرکات وسکنات سے کھلے طور پر ظاہر ہورہا ہے۔روپے سے محبت کی جاتی ہے اور اس پر وہ بھروسہ کیا جاتا ہے جو خود ذات باری تعالیٰ کے شایانِ شان ہے۔قبروں پر جا کر سجدے کئے جاتے ہیں۔شراب خوری، زنا کاری ، قمار بازی اور حرام خوری کا میدان گرم ہے۔سود جس کے متعلق کہا گیا کہ اسے لینے اور دینے والا خدا تعالیٰ سے جنگ کرنے کو تیار ہو جائے شیر مادر کی طرح سمجھا گیا ہے مسلمانوں کی تمام سلطنتیں کمزور ہو کر کھوکھلی ہو چکی ہیں اور مسیحی حکومتیں ان کو اپنا شکار سمجھتی ہیں۔دوسری طرف اسلام کا وجود خود بیرونی حملوں کا اس قدر شکار ہورہا ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ بس یہ آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں۔نبیوں کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گندے سے گندے اعتراض کئے جاتے ہیں۔آپ کی ازواج مطہرات کو مختلف قسم کے الزامات کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسلامی تعلیم کو ایک نہایت بد نما شکل میں پیش کر کے اس پر ہنسی اُڑائی جاتی ہے۔صلیبی مذہب پورے زور پر ہے اور دہریت اپنے آپ کو ایک خوبصورت شکل میں پیش کر رہی ہے غرض اسلام کی کشتی ایک ایسے طوفان بے تمیزی کے اندر گھری ہوئی ہے کہ جب تک خدا کا ہاتھ اس کے بچانے کے لئے نہ بڑھے اس کا کنارے پر پہنچنا ناممکنات میں سے ہے۔علماء جن کا فرض تھا کہ ایسے وقت میں اسلام کی مدد کے لئے کھڑے ہوتے خواب غفلت میں پڑے سوتے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ خود ہزاروں بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ان کے ایمانوں کی حالت ایسی ابتر ہو چکی ہے کہ الامان ! چند پیسوں پر ایمان فروشی کو تیار ہو جاتے ہیں۔یہ تمام حالات پکار پکار کر بتا رہے ہیں کہ یہی وہ زمانہ ہے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ڈرایا تھا اور یہی وہ وقت ہے جس میں اسلام کے عظیم الشان مجد دسیح اور مہدی کی آمد مقدر ہے کیونکہ اگر ایسی اشد ضرورت کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مصلح ظاہر نہ ہو تو پھر نعوذ باللہ خدا کا وہ وعدہ غلط ٹھہرتا ہے کہ میں قرآن اور اسلام کی حفاظت کروں گا اور دین کی خدمت کے لئے خلفاء اور مجد ڈین کھڑے کرتا رہوں گا۔89