سیدنا بلالؓ

by Other Authors

Page 5 of 29

سیدنا بلالؓ — Page 5

سیدنا بلال 5 دل بدل گیا دل بدل گیا 6 سیدنا بلال ”اچھا ٹھیک ہے۔ہمارے دیوی دیوتا تو خود اس سے سمجھ لیں گے۔لیکن یہ جو غریب فقیر یا غلام علمٹے اس کے ساتھ چمٹنے شروع ہوئے ہیں۔ان سے تو میں نمٹوں گا جو کنگلا کنگال ہے اس کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ابھی یہ گفتگو ہورہی تھی کہ عمار وہاں آگئے۔عمار کوئی امیر یا سرمایہ دار نہ تھے لیکن غلام بھی نہ تھے آزاد تھے اور اسلام لاچکے تھے۔ان ظالموں نے انہیں پکڑ لیا اور گر ا لیا۔لیکن اُن کا سر نہ جھکا سکے۔وہ بھی اگر غلام ہوتے تو جھکی گردن، نیچی آنکھوں اور دوہری ٹانگوں کو اپنی جان کی حفاظت سمجھتے لیکن وہ تو آزاد تھے۔مگر غربت بھی تو جرم ہے۔وہ غریب کیوں تھے۔اس لئے اُن سرداروں نے انہیں پکڑ لیا۔ان فرعونوں نے انہیں کہا کہ بتاؤ محمد تمہیں کیا سکھاتا پڑھاتا ہے؟“ اُنہوں نے بڑے سکون سے جواب دیا کہ وہ کہتے ہیں۔اللہ ایک ہے اور ہمیں اُس کی عبادت کرنی چاہیے، ہم سب اُسی کے بندے ہیں اور اسی طرح برابر جیسی کنگھی کے دندانے“۔یہ سُن کر میری ہڈیاں تک سُن ہو گئیں۔میں نے سوچا اچھا! ہم سب اللہ کے بندے ہیں؟ ہم سب برابر ہیں۔میں اور امیہ برا بر معمار، ابوسفیان اور ابولہب برابر لیکن میں تو مجبور تھا۔غلام جو ہوا۔لیکن امیر! امیہ تو سردار مکہ تھا۔وہ اسے کیسے برداشت کر لیتا۔اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا چہرہ سرخ ہو گیا۔میں نے سوچا۔عمار میں یہ جرات کہاں سے آگئی۔وہ یہ بھی تو کہہ سکتا تھا کہ محمد ہمیں عبادت کی تعلیم دیتے ہیں۔ہمیں سچ بولنے کی نصیحت کرتے ہیں۔ہمسایہ سے نیک سلوک کرنے کو کہتے ہیں۔اور یہی سُن کر یہ ظالم انہیں چھوڑ چھاڑ دیتے۔لیکن عمار نے تو انہیں ساری کتاب ہی کھول کر سنادی۔ابوسفیان کے پاس ایک کوڑا ہوا کرتا تھا جب عمار نے یہ بات کہی کہ محمد ہمیں ایک خدا کی عبادت سکھاتے ہیں اور اُس کے بندے سب برابر ہیں تو اُس نے عمار کی کمر پر وہی کوڑا رسید کر کے کہا۔ایک خُدا! ہمارے تو تین سو ساٹھ خُدا ہیں۔ہمارے محافظ اور ہمارے خالق اور ہمارے رازق“۔دل بدل گیا مجھے یاد ہے اور خوب یاد ہے کہ ابوسفیان غصے میں بھرا کبھی ادھر جاتا کبھی ادھر اور پھر اگلا لمحہ۔ہاں اگلا لمحہ۔اُسی لمحہ میری زندگی میں انقلاب آ گیا۔ابوسفیان غصے میں بھرا بک رہا تھا کہ محمد یہ نہیں سمجھتا کہ یہی بت ہماری روزی اور ہماری کمائی کا باعث ہیں۔ہر سال سارے عرب کے قبائل انہی بتوں کی پرستش کے لئے یہاں آتے ہیں۔ان پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور پھر ہم سے ایسے ہی بت خرید کر بھی لے جاتے ہیں۔یہی ہمارے معبود بھی ہیں اور یہی ہمارا رزق بھی ہے۔کیا ہم غریبوں اور کمزوروں کی دیکھ بھال نہیں کرتے۔اے عمار! کیا تمہارا حصہ تمہیں نہیں ملتا؟ اور دیکھو عمار اگر ہمارے تین سو ساٹھ بتوں کی جگہ ایک خدا آ گیا جو نہ نظر آتا ہے اور نہ اس کی آواز سنائی دیتی ہے اور محمد کہتا ہے کہ وہ ہر جگہ موجود ہے۔یہاں بھی ہے۔وہاں بھی ہے۔اس باغ میں بھی اُس گھر میں بھی۔مکہ میں بھی یثرب میں بھی اور یروشلم میں بھی۔سورج میں بھی اور چاند میں بھی۔تو پھر ہم مکہ والے کہاں جائیں گے ہمارا کیا بنے گا۔جب سب کا خدا ان کے گھروں میں ہی ہوگا۔تو مکہ والے تو