سیدنا بلالؓ — Page 6
سیدنا بلال 7 مصائب کے پہاڑ لٹ گئے۔ہم کو کون پوچھنے والا ہوگا۔سوچ تو سہی عمار! محمد کی بات کیا ہمیں برباد نہ کر دے گی ؟ ابوسفیان کی تقریر سے ایسا معلوم ہوا کہ گویا بات ختم ہوگئی۔لیکن میرا آقا امیہ بن خلف پیچ میں کود پڑا اور مجھے آواز دی۔میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔میں نے دیکھا کہ امیہ اپنی ریشمی قباسرسراتے ہوئے عمار کے پاس پہنچا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔"ابے عمار! یہ بلال۔یہ میرا غلام۔اسے میں نے رقم دے کر خریدا ہے۔یہ میرے برابر ہے؟ ذرا سوچ کر بتاؤ“۔امیہ کا سوال! اس کا جواب کیا تھا۔امیر اور بلال برابر ہیں؟ میری تو حیثیت ہی کچھ نہ تھی۔امیہ کے سوال کے دو جواب ہو ہی نہیں سکتے تھے۔ایک ہی جواب تھا۔امیہ آقا-بلال غلام، امیہ آسمان- بلال زمین۔یہ دونوں برابر ہو جائیں یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔عمارا تو اس وقت عجیب بدھوسا لگ رہا تھا۔لیکن کہنے لگا۔محمد ہمیں سکھاتے ہیں سب انسان، سب قومیں، سب نسلیں اللہ کے حضور سب برابر ہیں۔اُس کے جواب کے بعد سناٹا چھا گیا۔پھر مجھے امیہ کی آواز سنائی دی۔”بلال“ اور مجھے اس وقت کیا معلوم تھا کہ یہی آواز میری دُنیا بدل دے گی۔میرا خدا۔میرا اللہ ہی عالم الغیب ہے۔میں بلال۔اپنے آقا کا حکم سُن کر آ گیا اور اس نے کہا۔بلال! اس احمق کو سردار مکہ اور بلال کے درمیان فرق بتاؤ۔یہ لو کوڑا اور اس کے منہ پر مارو۔اسے سمجھ آ جائے گی کہ امیہ اور بلال برابر نہیں ان میں فرق ہے۔مصائب کے پہاڑ 8 سیدنا بلال عمار نے مجھے دیکھا اور بڑے سکون سے منہ میری طرف کر دیا اور میں حواس باختہ ہو گیا۔اور آج بھی مجھے وہ واقعہ یاد ہے۔لیکن اسے دوہرانے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں کہ اس وقت مجھے کیا ہو گیا۔میری آنکھوں کے آگے اندھیرا تھا۔عمار نہیں تھا۔لیکن ایک لمحہ بعد ہی مجھے ہوش آ گیا۔عمار سکون اور چین کا مجسمہ میرے سامنے کھڑا تھا اور یہی وہ لحہ تھا کہ میرے آقا بدل گئے۔امیہ بن خلف میرے جسم کا مالک رہ گیا۔محمد پر میری روح قربان ہوگئی اور اس روح کی غلامی پر آج بھی میں فخر کرتا ہوں۔اب میں محمد کا غلام تھا۔کوڑا میرے ہاتھ سے گر گیا۔مجھے ان سانسوں کی آواز آ رہی تھی۔انہوں نے جو دیکھا۔وہ اسے خوب سمجھ گئے اور میں بھی سمجھ گیا کہ میں کیا کر گیا ہوں۔یہ ایک غلام کی بغاوت تھی۔عمار جھکے کوڑا اٹھایا اور میرے ہاتھ میں تھما کر کہا۔بلال ! لو یہ کوڑا اور اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کرو۔وگر نہ بلال !۔۔۔بلال! یہ لوگ تمہیں موت کی نیند سلا دیں گئے۔لیکن میں نے کوڑا پھینک دیا اور میرا دل چین اور سکون سے بھر گیا۔میں نے ان آنکھوں سے ابوسفیان کو دیکھا۔اس نے امیہ کو اشارہ کیا اور پھر میں نے ہندہ ابوسفیان کی بیوی کو بھی دیکھا جسے آج تک میں نے نظر بھر کر نہ دیکھا تھا۔وہ زہر بھری مسکراہٹ کے ساتھ ہنسی اور امید اپنے غصہ کی وجہ سے بول نہ سکا۔چند لمحوں میں طوفان گزر گیا تو بولا۔بلال میرے گھر میں صرف میرے ہی دیوتاؤں کے لئے جگہ ہے وہاں کوئی اور خدا نہیں آسکتا۔اور پھر اس نے ڈھلتے ہوئے سورج پر نظر کی اور کہا۔