سیدنا بلالؓ — Page 4
سیدنا بلال 3 بتوں کے سائے میں دل بدل گیا 4 سیدنا بلال بھی یا شاید ہر ملک سے مال آتا۔غلام بھی پکنے کے لئے آیا کرتے تھے۔غلہ ، کپڑا ، مرچ مصالحہ، مال مویشی سب سکتے۔دیوی دیوتاؤں کے بُت بھی اسی قسم کی منڈیوں میں پکا کرتے۔انہی دنوں کا ذکر ہے کہ میں ایک مرتبہ ابو جہل کے غلام کے ساتھ کعبہ کی دیوار کے سایہ تلے بیٹھا تھا کہ ابو جہل وہاں سے گزرا۔ہنستے ہوئے کہنے لگا۔لومیاں ! یہ ہے جو اللہ میاں سے باتیں بھی کرتا ہے۔اپنے مالک کی آواز سُن کر اُس کا غلام تو جھٹ کھڑا ہو گیا اور اپنے آقا کے حکم کا انتظار کرنے لگا لیکن بات ہنسی میں اُڑ گئی۔و لیکن پانی پر بھی تو چل کر دکھاؤ“۔یہ آواز میرے آقا امیہ بن خلف کی تھی جو آج جہنم میں پڑا جل رہا ہے۔پھر میں نے دیکھا کہ عبداللہ کے بیٹے محمد (ع) تنہا خاموش اور سر جھکائے چلے آرہے ہیں اور وہ کعبہ سے مڑ کر پہاڑی کی طرف چلے گئے۔لوگ کہا کرتے کہ یہاں ایک فرشتہ آ کر اُن سے باتیں کرتا ہے۔ابو سفیان بھی وہیں تھا۔وہ سنجیدہ قسم کا آدمی تھا۔یونہی جنسی میں بات اُڑانا اس کی عادت نہیں تھی۔اس کے چہرہ پر پریشانی نظر آ رہی تھی۔وہ سوچ رہا تھا کہ اس قسم کا کفر اگر پھیلتا گیا تو ہمارے دیوتا ہم سے ناراض ہو جائیں گے۔اُس نے ابولہب کو کچھ غصے کی نظروں سے دیکھا اور اسے کہا۔یہ تمہارا ہی تو بھتیجا ہے اسے سیدھا کرو۔یہ تمہارے خاندان کا فرد ہے“۔ابولہب اس وقت کچھ نشہ کی حالت میں تھا۔کہنے لگا۔چالیس برس کا ہو گیا ہے ذرا عقل نہیں آئی۔ہے تو میرا ہی بھتیجا لیکن خاندان کے نام کو بٹہ لگا گیا ہے۔پاگل کہیں کا۔ابھی کل اپنے غلام کو بیٹا بھی بنا لیا ہے۔پاگل پن نہیں تو اور کیا ہے جو کوئی اس کے در پر جاتا اور جو مانگتا ہے کبھی انکار نہیں کرتا۔ہر ایرے غیرے کو کھانا کھلا دیتا ہے۔دسیوں آکر اسے یوں بیوقوف بنا کر چل دیتے ہیں۔کسی کو بکری، کسی کو بھیٹر کسی کو کچھ کسی کو کچھ۔خالی ہاتھ اس کے در سے کوئی نہیں جاتا۔میں کیا کروں۔بھتیجا پاگل ہو جائے تو چچا کیا کرے؟“ یہ کہہ کر ابولہب نے اپنے ارد گرد ساتھیوں کو اس نظر سے دیکھا کہ شاید وہ اس مشکل کا کوئی حل بتا ئیں۔پریشانی بڑھتی جارہی تھی اور اس عالم میں ابوسفیان کا بازو پکڑ کر کچھ منتظر ہوکر بولا۔ابوسفیان! سوچو تو سہی۔جوان آدمی ، مضبوط اور صحت مند۔بیوی بھی مالدار اور دولت مند اور شہر میں عزت و احترام۔کیا چاہیے اور اسے ؟ اب دیکھو پہاڑ پر گیا ہے۔غار میں بیٹھا سردی سے کانپ رہا ہوگا۔سمجھتا ہے کہ فرشتہ آ کر اس سے باتیں کرتا ہے۔میں تو سمجھتا ہوں اس کے کان بجتے ہیں اور یہ سمجھتا ہے کہ فرشتہ ہے۔یہ بات سن کر سب فکرمند ہو گئے۔آخر جنون تو جنون ہے۔پاگل پاگل کہہ دینے سے تو کسی کا پاگل پن جاتا نہیں اور کہنے سننے سے پاگل اچھے کب ہوئے ہیں۔کچھ لمحوں بعد ابولہب پھر فکرمندی کے لہجہ میں بولا۔بھی کون سا زیادہ عرصہ گزرا ہے؟ سال بھر پہلے ہی کی تو بات ہے تم سب اسے جانتے تھے اس کی عزت بھی کرتے تھے۔اس وقت تم لوگ اس کا ٹھٹھا مخول بھی نہیں اڑاتے تھے۔اور تو اور تم لوگ اس کے پاس اپنے جھگڑے تک تو طے کرانے لے جایا کرتے تھے۔آخر اسے سیانا ہی سمجھتے تھے نا تبھی تو تم لوگ اس کے پاس جاتے تھے۔ابوسفیان بولا۔