سیدنا بلالؓ — Page 3
سیدنا بلال 1 عنه بلال وله میں بلال ہوں“ بتوں کے سائے میں بتوں کے سائے میں میں بلال ہوں۔حبشہ میرا وطن تھا میرے ابا کا نام رباح تھا۔وہ بھی غلام تھے اور میری امی کا نام حمامہ تھا اور وہ بھی غلام تھیں۔گویا میں خاندانی غلام ہوں۔جب مجھے مکہ کی منڈی میں میرے آقا امیہ بن خلف نے خریدا تو جانتے ہو ان دنوں غلام کیا چیز ہوا کرتی تھی ؟ بھیڑ، بکری، گائے یا اونٹ کی کچھ قدر تھی لیکن غلام اس سے بہت کمتر تھا۔غلام جب پکھتا تھا تو صرف موت اسے آزاد کراتی تھی۔اس کی زندگی اس کے مالک کا حکم بجالانا ہوتا تھا۔غلام حکم نہ ماننے کا تو کبھی خیال بھی نہیں کر سکتا تھا۔محنت کے بوجھ تلے آ کر غلام مر گیا تو مالک کی بلا سے۔اُسے اگر غم ہوتا تو صرف یہ کہ اُس کی رقم کا نقصان ہو گیا وگر نہ غلام کی زندگی ختم ہو جانے کا کوئی دُکھ نہیں ہوتا تھا۔میں دو مرتبہ غلام بنا۔پہلی بار امیہ بن خلف مکہ کے ایک سردار نے مجھے خریدا اور دوسری بار ابو بکر نے مجھے اس سے خرید کر محمد(ﷺ) کا غلام بنا دیا۔پہلے مالک کی غلامی میں ذلیل وخوار تھے اور مجھے اس بیدردی سے مارا جاتا تھا کہ ایک مرتبہ مجھے اس مار کی وجہ سے مردہ سمجھ کر ہی چھوڑ کر چلے گئے۔دوسری غلامی میں میں اتنا معزز ہوا کہ آدھی دنیا کے بادشاہ حضرت عمر مجھے سیدنا بلال“ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔یہ غلامی میرے لئے بادشاہی سے کم نہ تھی۔مجھے سردار دو جہاں کی وہ خدمت نصیب ہوئی جسے بڑے بڑے سرداروں نے بھی رشک کی نگاہوں سے دیکھا۔میرا جسم دبلا پتلا ہے اور قد لمبا ہے اور میں دوسروں میں اونچے درخت کی طرح نظر آتا ہوں۔میں حبشہ کا رہنے والا ہوں اور اپنے ملک کے لوگوں کی طرح میرا رنگ کالا ہے۔میرا ایک 2 سیدنا بلال بھائی خالد ہے وہ بھی مسلمان ہے۔میری ایک بہن عقرہ ہے۔میری کنیت ابو عبد اللہ ہے اور بعض اوقات لوگ مجھے ابو عمر بھی کہتے ہیں۔میری آواز بہت بلند ہے اور بہت اثر کرنے والی ہے۔میں آپ کو وہ باتیں سناؤں گا جو میں نے خود دیکھیں یا جو مجھ پرگزرگئیں۔میں نے اسلام کا آغاز دیکھا۔میں نے اپنے آقا کی دُکھوں بھری زندگی بھی دیکھی اور پھر میں نے وہ وقت بھی دیکھا کہ جب آپ دس ہزار مقدس ساتھیوں کے ساتھ اُسی مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے جہاں سے مکہ والوں نے انہیں نکل جانے پر مجبور کر دیا تھا۔میں نے اُس دن اُن کا اعلان بھی سنا کہ اگر کوئی ان کے غلام کے جھنڈے تلے بھی آجائے گا اسے امان دی جائے گی اور اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔جانتے ہو اس غلام کا کیا نام تھا وہ میں تھا جس کا نام بلال ہے۔غلاموں کی اتنی عزت شاید آسمان نے اور زمین نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔بتوں کے سائے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کا اعلان فرما چکے تھے مخالفت کی آندھیاں چلنی شروع ہوگئی تھیں۔کعبہ میں بچوں کے ہجوم تھے۔تین سو ساٹھ تھے یا تین سو پینسٹھ۔ہر قبیلہ کا علیحدہ بت۔ہر دن کا علیحدہ بت، ہر تقریب کا علیحدہ بت، دُکھوں کے بت سکھوں کے بت، ان میں دیوتا بھی تھے اور دیویاں بھی۔لات، منات اور عز کی سب سے محترم دیویاں تھیں۔سارے عرب کے قبائل ہر سال مکہ آتے اور ایک خاص مہینہ ذوالحجہ میں حج کی رسومات ادا کرتے۔یہ وہ دن ہوتے کہ جب کعبہ دار الامن ہوتا۔کوئی کسی کو کچھ نہ کہہ سکتا۔لڑائی جھگڑے سب بند قتل و خوں ریزی کے دلدادہ عرب یہ دن بڑے امن وسکون سے گزارتے۔کعبہ کے مجاوروں کے کمائی کے دن بھی یہی ہوتے تھے۔انہی دنوں منڈی بھی لگتی۔شام کے سوداگر آتے ، یمن سے بحری تاجر پہنچتے۔یمن کے تاجر اپنا مال لاتے اور اس ملک سے بھی اور اُس ملک سے