سیدنا بلالؓ

by Other Authors

Page 25 of 29

سیدنا بلالؓ — Page 25

سیدنا بلال 45 دیگر غزوات اور فتح مکہ آنحضور کی وفات 46 سیدنا بلال نے لوگوں کی دلی کیفیات کو بھانپ کر نماز کے بعد فرمایا کہ "جب تم میں سے کوئی شخص سوتا رہ جائے اور نماز قضا ہو جائے تو جس وقت آنکھ کھلے فوراً اس نماز کو پڑھ لئے“۔غزوات میں شرکت کفار اور مشرکین کی طرف سے مسلمانوں پر بہت ہولناک مظالم ڈھائے گئے تھے۔اور اب جبکہ مسلمان مدینہ ہجرت کر چکے تھے ان مظالم کا سلسلہ ایک اور رنگ میں شروع ہو گیا۔کفار مکہ نے اسلام کو نابود کرنے کے ناپاک ارادے سے مدینہ کی طرف حملے کرنے شروع کر دیئے اور اس سلسلہ میں بہت سے معرکے ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے مظلوم مسلمانوں کو اپنے دفاع کے لئے جنگ کرنے کی اجازت دے دی تھی اس لئے اب ہم سب بڑی بے جگری کے ساتھ کفار کے مقابلے کے لئے نکلتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعداد میں کم ہونے کے باوجود ہمیشہ کفار کو ذلت آمیز شکست دیتے تھے۔میں جو اپنے آقا کا ایک کمزور سا غلام تھا میں بھی ہر ایک معر کے میں اپنے آقا کے ساتھ شریک رہا۔اور جس حد تک خدا نے توفیق دی اپنی خدمات پیش کرتارہا۔غزوہ بدر اس سلسلہ کا پہلا معرکہ تھا جو مدینہ کے قریب بدر نامی ایک مقام پر پیش آیا۔جس میں رسول اللہ کی سرکردگی میں صرف 313 نہتے مجاہدین نے 1000 مسلح کفار کوعبرت ناک شکست دی۔اور یہ غزوہ میرے لئے اس لحاظ سے بھی یادگار ہے کہ اسی غزوہ کے بعد جب کفار شکست کھا کر اپنی جانیں بچانے کے لئے میدانِ جنگ سے فرار ہو رہے تھے تو اچانک میں نے دیکھا کہ ان بھاگنے والوں میں میرا ظالم مالک امیہ بن خلف اور اس کا بیٹا بھی تھا۔اسلام اور رسول خدا کے سب سے بڑے دشمن کو بھا گتا دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا۔اور میں نے ” لَا نَجَوْتُ إِنْ نَجا أُمَيّه " کا نعرہ لگایا (یعنی اگر امیہ بیچ کر چلا گیا تو میر اوجود بے فائدہ ہوگا) اور اپنے چند ساتھیوں کو ساتھ لے کر اس کا پیچھا کیا اور اسے جالیا۔اور تھوڑی ہی دیر کے بعد اسلام کا یہ بدترین دشمن خاک و خون میں لتھڑا ہوا زمین پر بے جان پڑا تھا۔یہ وہی امیہ تھا جو خود کو خدا سمجھا کرتا تھا اور اپنی طاقت کے زعم میں کمزور اور مجبور مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ تو ڑا کرتا تھا۔جانوروں کی طرح انہیں پیٹتا تھا۔گلیوں میں گھسیٹتا تھا اور گلے میں رسی ڈال کر محلے کے لڑکوں کے سپرد کر دیتا تھا۔تا کہ وہ اس مظلوم کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں۔اور آج وہی ظالم اپنے گناہوں کی پاداش میں بدر کے میدان میں بے یارومددگار پڑا تھا۔اور اس عبرت ناک انجام کا وہ خود ذمہ دار تھا۔کیونکہ ظلم کے جو بیج اس نے اپنے ہاتھوں سے بوئے تھے لازم تھا کہ وہ ان کا کڑوا پھل بھی کھاتا۔سچ ہے کہ ظلم خواہ کتنا ہی بڑھ جائے اس کی قسمت میں منا ہی لکھا ہے۔پس ظلم کا ایک سیاہ باب آج ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا تھا۔دیگر غزوات اور فتح مکہ غزوہ بدر کے بعد مسلمانوں اور کفار کے درمیان اور بھی بہت سے غزوات ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ایک موقعہ پر میں بھی اپنے آقا کے آگے پیچھے دائیں اور بائیں لڑنے والوں میں شامل تھا۔غزوہ احد اور غزوہ غطفان میں بھی حضور کے ساتھ موجود تھا۔غزوہ خندق کی کھدائی کے موقعہ پر میں بھی دیگر اصحاب کے ساتھ خندق کی کھدائی کا کام کرتا رہا۔غزوہ خندق کے بعد غزوہ بنو قریظہ کی طرف روانگی کے لئے بھی حضور نے اعلان کرنے کے لئے مجھے ہی چنا اور فرمایا کہ اے بلال! مسلمانانِ مدینہ کو آگاہ کر دو کہ جو شخص بات ماننے والا اور اطاعت کرنے والا ہے وہ فوراً تیار ہو جائے اور نماز بنوقریظہ کی آبادیوں میں پہنچ کر ادا کرے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ فتح مکہ کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ کی معیت عطا فرمائی اور مکہ میں داخلے کے وقت بھی اور اس سے بھی بڑھ کر خانہ کعبہ میں داخل ہوتے ہوئے میں ان چند خوش نصیبوں میں سے تھا جو حضور کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر گئے تھے۔