سیدنا بلالؓ

by Other Authors

Page 26 of 29

سیدنا بلالؓ — Page 26

سیدنا بلال 47 آنحضور کی وفات مدینہ سے ہجرت اور وفات رسول اللہ نے اس موقع پر مجھے ایک عظیم اعزاز سے بھی نوازا۔آپ نے اپنے اس کمزور غلام کے بارے میں اعلان فرمایا کہ جو کوئی بلال کے جھنڈے کے نیچے آ جائے گا۔اُسے امان دی جائے گی۔میں خدا کی قدرت پر حیران تھا کہ وہ کمزور غلام جو کل تک مکہ کی گلیوں میں خود بے امان تھا آج اہل مکہ کے لئے امان کی ضمانت بن گیا تھا۔مجھ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والے آج میری امان کے محتاج تھے۔واقعی خدا تعالیٰ کے کام انسان کے فہم اور ادراک سے بہت بالا ہوا کرتے ہیں۔حضور اکرم نے بعد میں مجھے ارشاد فرمایا کہ خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دوں اور خدائے واحد کا نام اس بستی میں بلند کروں جہاں چند سال پیشتر خدا کا نام لینے پر مظالم کی انتہاء کر دی جاتی تھی۔وہ کیفیت بیان سے باہر ہے کہ میں نے یہ اذان کس طرح سے دی۔میں کیسے بھول سکتا تھا کہ یہ وہی مکہ ہے جہاں خدائے واحد کا ذکر کرنے پر مجھے تپتی دھوپ میں لٹایا جاتا تھا اور کوڑے لگائے جاتے تھے۔میرے ساتھیوں کو کوئلوں پر جلایا جاتا تھا اور بعض کو اسی جرم کی پاداش میں قتل بھی کر دیا گیا تھا۔آج اسی مکہ کے مرکز سے جب میں اللہ اکبر کی صدا بلند کر رہا تھا تو بے اختیار یہ سوچ رہا تھا کہ اللہ واقعی بہت بڑا ہے جس نے اپنے رسول کو ہزاروں مخالفتوں اور طوفانوں کے باوجود فتح عطا فرمائی اور کوئی جتھہ اور گروہ اس کے بڑھتے ہوئے قدموں کو نہ روک سکا۔میری آواز جوں جوں بڑھ رہی تھی اس کا جوش اور ولولہ بھی بڑھتا چلا جا رہا تھا۔اور بتوں کے پوجنے والے نادان کفار مکہ کے دل اذان کے ایک ایک لفظ پر کانپ سے جاتے تھے۔وہ جو 360 بتوں سے مدد کی امید لگائے بیٹھے تھے اب یہ جان چکے تھے کہ حقیقی خدا ایک ہی ہے اور ان کے بت اس کے مقابل پر کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے۔48 سیدنا بلال چنانچہ ان میں سے ایک نے تو بعد میں یہاں تک کہ دیا کہ شکر ہے کہ میرا باپ پہلے مرگیا تھا ور نہ آج وہ کعبہ سے بلند ہونے والے الفاظ شاید برداشت نہ کر پاتا۔میں خوش قسمت تھا کہ میں آج مکہ کی گلیوں میں خدا کا نام بلند کرنے کی توفیق پارہا تھا۔اور یہ آواز لحہ بہ لمحہ پھیلتی ہی چلی جارہی تھی۔الله اكب اللهُ أَكْبَرُ لا ال هَ إِلَّا الله آنحضور ﷺ کی وفات میری زندگی کا سب سے خوبصورت دن وہ تھا جب میں اپنے آقا حضرت محمد مصطفیٰ " کے قدموں میں پہنچاتھا اور اسی زندگی میں یہ تکلیف دہ دن دیکھنا بھی مقدر تھا کہ مجھے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے محبوب آقا سے جدائی کا دکھ دیکھنا پڑ رہا تھا۔مجھے یاد ہے کہ اپنے آقا کی وفات پر میری زبان سے بے اختیار یہ کلمات نکلے تھے کہ " کاش میری ماں مجھے جنم ہی نہ دیتی اور اگر جنم دیا تھا تو کاش میں آج سے پہلے مرگیا ہوتا تا کہ حضور کی رحلت کے اس منظر کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھنا پڑتا۔میں کیسے بھول سکتا ہوں کہ میں جو ہر نماز کی اذان دینے کے بعد اپنے پیارے آقا کے دروازے پر جا کر یہ صدا دیا کرتا تھا کہ الصلوۃ یا رسول اللہ یعنی یا رسول اللہ! نماز تیار ہے۔حضور اکرم کی وفات سے تین روز قبل جب آپ کافی علیل تھے آپ کے دروازے پر گیا اور حسب معمول نماز کے لئے اطلاع دی۔میری بات سن کر حضور نے فرمایا کہ ابو بکڑ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔