سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 386
386 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ زندگی کی امید نہیں رہی۔ایک دن شام کے وقت حضرت اُم المؤمنین تشریف لائیں اور مجھے پکارا میں نے جواب دیا تو فرمایا تم ہمارے نو کر تو نہیں مگر فراغت ہو تو بھاگی منگل سے بھو سا لا دو۔میں نے عرض کیا کہ حضور میرے گھر سے بیمار ہیں ان کے لئے دعا کریں آپ نے فرمایا تم جاؤ بھوسہ لے آؤ ہم دعا کریں گے۔میں چھکڑوں کا انتظام کر کے صبح کو چلا آیا اور شام کو بھوسہ لے آیا آپ نے فرمایا اسے مکان میں ڈلوادو۔تمہاری بیوی اچھی ہے اور کھانا کھا کر جانا۔میں نے تعمیل حکم کی۔گھر جا کر دیکھا تو بیوی اچھی تھی میں نے دریافت کیا کہ کیا کھایا اس نے کہا حضرت ام المؤمنین نے دوائی بھیجی تھی اور تبرک بھیجا تھا۔اسی کی برکت کا یہ نتیجہ ہے۔یہ واقعات ہیں اور یہ لوگ زندہ موجود ہیں۔حضرت ائم المؤمنین کی ہمدردی اور دوسروں کے لئے دعا کا جوش اور خدا تعالیٰ کی طرف سے قبولیت دعا کا اعجاز قابل غور ہے۔واللہ الحمد۔حضرت مولوی غلام نبی صاحب مہاجر کا بیان حضرت مولوی غلام نبی صاحب اپنے علم اور عمل کے لحاظ سے واجب الاحترام صحابہ میں سے ہیں ہر انسان اور ہر چیز کو اپنے نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔وہ حضرت اُم المؤمنین کے متعلق فرماتے ہیں جو انہوں نے اپنی بیوی کے ذریعہ معلوم کیا کہ حضرت اُم المؤمنین کو جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یا کسی خاص واقعہ یا ذکر کی وجہ سے آتی ہے تو آپ فورا قرآن شریف پڑھنے لگ جاتی ہیں اور اگر کوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کرتا ہے اور اس سے بشری حالات کے ماتحت صدمہ محسوس کرتی ہیں تو بھی قرآن کریم کھول کر پڑھنے لگتی ہیں۔حضرت ام المؤمنین کا یہ عمل ہم سب کے لئے خضر طریقت ہے قرآن مجید میں اطمینان و تسلی کا ذریعہ ذکر اللہ فرمایا ہے اور قرآن مجید تو الذکر ہی ہے۔حقیقت میں یہ نہایت نا قابل خطا نسخہ فکر و غم سے نجات پانے کا ہے جو چاہے اس کو آزما کر دیکھ لے۔میاں نیک محمد خاں صاحب افغانی کا بیان ہے کہ جب کچھ عرصہ کے لئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب والے مکان میں مہمان خانہ تھا ایک دفعہ شیخ عرفانی کبیر حضرت اُم المؤمنین سے کچھ عرض کر رہے تھے۔میں بہت سے چینی کے برتن اُٹھا کر لایا مگر میرے ہاتھ سے وہ سب گر کر ٹوٹ گئے۔آپ نے شیخ صاحب سے پوچھا کہ کون ہے انہوں نے عرض کیا کہ