سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 387 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 387

387 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ نیک محمد خاں افغان ہے فرمایا سب برتن ٹوٹ گئے انہوں نے عرض کیا۔جی ہاں۔آپ نے انا للَّهِ وَانَا اليَهِ رَاجِعُون پڑہا اور مجھے کچھ بھی تو نہ کہا اور اندر تشریف لے گئیں۔یہ واقعہ میرے سامنے کا ہے۔نیک محمد خان صاحب بعض مہمانوں کو چائے وغیرہ پلا کر برتن واپس لا رہے تھے سیٹرھیاں کمرے کے اندر سے اُوپر جاتی تھیں۔حضرت اُم المؤمنین پس پردہ تشریف فرما تھیں اور خاکسار سے بعض امور دریافت فرمارہی تھیں جو مہمانوں کی خدمت اور مدارات کے متعلق ہی تھے کہ اتنے میں یہ واقعہ ہوا۔حضرت ممدوحہ نے کوئی سرزنش نہیں فرمائی نہایت سکون کے ساتھ انا للہ پڑھ دیا اور تشریف لے گئیں گویا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔اس قلب کی سکینت و اطمینان پر نظر کر وجس کے اندر دنیا کے آلام سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ایک دنیا دار کی تو وہی حالت ہے جس کا نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مصرعہ میں فرمایا۔نقصان جو ایک پیسے کا دیکھیں تو مرتے ہیں اور یہاں یہ حالت ہے کہ ہر حال میں خدا کی رضا مقدم ہے اور اس کی مشیت کے ساتھ پوری مسالمت ہے اور یہی وہ بہشتی زندگی ہے جو اس دنیا سے شروع ہوتی ہے۔(عرفانی کبیر ) ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب مرحوم کے تأثرات ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نہایت اخلاص و عقیدت کے ساتھ سلسلہ میں داخل ہوئے تھے اور ۱۹۱۴ء خلافت ثانیہ کے آغاز تک وہ جماعت قادیان سے وابستہ تھے۔بعد میں اپنے ماحول کے ماتحت وہ خلافت سے کٹ گئے۔چونکہ اب وہ وفات پاچکے ہیں ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہے میں اس پر کچھ لکھنا نہیں چاہتا وہ زندہ تھے ایک دوسرے پر جرح قدح بھی ہوتی تھی۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی غلطیوں پر عفوفر مائے۔(آمین ) حضرت اُم المؤمنین کی سیرت کے متعلق ان کے تأثرات کا شائع کرنا میں نے اس لئے ضروری سمجھا ہے کہ آج منکرین خلافت مقام ادب سے ہٹ گئے ہیں اور وہ اپنا کمال ایمان تبر ابازی میں سمجھتے ہیں۔اے اللہ ان کو ہدایت دے کہ وہ نہیں جانتے لیکن جب تک وہ خلافت سے وابستہ تھے ان کے ایمان کی کیا حالت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال پر تاریخ سلسلہ کے امین الحکم