سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 309 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 309

309 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ایک حقیر خادم ہوں۔لفظ میرے ہیں مگر حکم اس کا ہے۔وہ غیر محدودخزانوں والا ہے اسے میرے دل کی تڑپ کا علم ہے اور اس کام کی اہمیت کو جو ہمارے سپر د ہے وہ ہم سے بہتر سمجھتا ہے۔پس میں اُسی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جماعت کے سینوں کو کھولے اور ان کے دلوں کے زنگ کو دور کرے تا وہ ایک مخلص اور باوفا عاشق کی طرح اس کے دین کی خدمت کیلئے آگے بڑھیں اور دیوانہ وار اپنی بڑی اور چھوٹی قربانی کو خدا تعالیٰ کے قدموں میں لا ڈالیں اور اپنے ایمان کا ایک کھلا ثبوت دے کر دشمن کو شرمندہ کریں اور اس کی ہنسی کو رونے سے بدل دیں اور نہ صرف یہ قربانی کریں بلکہ دوسرے مطالبات جو جانی اور وقتی قربانیوں سے تعلق رکھتے ہیں ان میں دل کھول کر حصہ لیں۔اللھم آمین یا رب العلمین۔‘‘ ہر جگہ قول اثر نہیں کرتا بلکہ اکثر جگہ نمونہ کا بہت اثر ہوتا ہے مندرجہ بالاتحریک جدید کے نوسالہ جہاد کا نہایت مختصر خلاصہ سید نا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں دیا گیا ہے۔اس غرض سے کہ سیدہ حضرت اُم المؤمنین سلمہا اللہ تعالیٰ کی سیرت پاک کے پڑھنے والے کو تحریک جدید کی اہمیت اور ضرورت اور اس کے اعلی شیر میں ثمرات کا علم ہو جائے۔اگر وہ اب تک اس جہاد میں شامل نہیں ہوا اور اب اسے اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی ہے تو وہ بھی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پانچ ہزاری فوج میں شامل ہو کر رضاء الہی حاصل کر سکے۔مکرمی مخدومی شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم نے سکندر آباد سے ایک خط لکھا کہ میں اس سیرۃ میں سیدہ حضرت اُم المؤمنین سلمہا اللہ تعالیٰ کی مالی قربانیوں کا نقشہ دینا چاہتا ہوں۔اس لئے آپ سیدہ حضرت اُم المؤمنین سلمہا اللہ تعالیٰ کی تحریک جدید کی مالی قربانیوں کا نقشہ بنا دیں اور ساتھ ہی اس کے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہر ایک ممبر کا نقشہ بھی بنا دیا جائے تا خاندان کے ہر ایک فرد کی تحریک جدید کے جہاد میں مالی قربانیوں کا حصہ شائع کیا جاسکے۔میں نے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قربانیوں کا نقشہ تیار کرنے سے پہلے ضروری سمجھا کہ اس کی سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے اجازت حاصل کروں۔چنانچہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے حضور جب یہ معاملہ پیش کیا تو حضور نے ارشاد