سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 279 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 279

279 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ 1939ء کے جلسہ سالانہ پر ہم پھر قادیان گئے۔ان ایام میں صاحبزادی امتہ القیوم کی شادی کی تقریب ہونے والی تھی۔اس لئے میں اور میری باجی امتہ الحفیظ بیگم وہاں چھ ماہ تک حضرت اُم طاہر احمد صاحب کے مکان میں مقیم رہیں۔اس لئے ہم کو خاندان کے ہر فرد کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔” وہ دن ہمارے لئے بڑے ہی ایمان پرور اور روح افزاء تھے۔ہم ہر روز حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔آپ ہم سے حیدرآباد کے تمدن ، وہاں کے لوگوں کے اخلاق، عادات ، دینی حالات، رسم و رواج کے متعلق پوچھا کرتی تھیں۔آپ اکثر مغرب کے وقت تشریف لایا کرتیں۔گرمیوں کے دن تھے۔پھولوں کے ہار گلے میں ہوتے اور ایک دوا اپنے ہاتھ میں وہ ہار آپ باجی قیوم کو پہنا تیں۔ایک دن حضرت آپا جان (اُم طاہر ) نے اماں جان سے آپ کے گلے کا ہار تبرکاً مانگا۔اس وقت میں بھی وہاں کھڑی تھی۔آپ نے مجھے دیکھ کر از راہ شفقت ایک ہار مجھے بھی مرحمت فرما دیا۔وہ ہار ! وہ انمول ہار !! جس کی قیمت کا اندازہ نہیں وہ آج تک میرے پاس محفوظ ہے۔یہ ہے اماں جان کی شفقت اپنے خدام کے ساتھ۔آپ کی شفقت کی باتیں تو گنی نہیں جاسکتیں۔جب میں قادیان سے آنے لگی۔تو میں آپ سے ملنے گئی۔آپ نے دعا دی فرمایا: اچھا جاؤ۔خدا تمہارا حافظ و ناصر ہو۔خدا تمہیں خیریت سے اپنے گھر پہنچائے۔اپنے ابا کو میر اسلام کہنا۔پھر جب میں چلنے لگی تو فرمایا کہ کیا گلے نہیں ملو گی آپ اس وقت چار پائی پر تشریف فرما تھیں۔آپ کے اس فقرے نے میرے اندر رقت بھر دی اور میں چشم پر آب ہو کر آپ کے گلے سے لپٹ گئی۔آپ نے بڑی دیر تک مجھے اپنے سینے سے لگائے رکھا۔میں اس وقت دنیا کی تمام راحتوں سے ہم آغوش تھی۔مجھے سارے دکھ اور درد بھول گئے۔اور بارہ سال کے بعد مجھے پھر ایک بار اپنی ماں کی کھوئی ہوئی محبت اور شفقت آپ کے سینے سے لگ کر محسوس ہو رہی تھی۔“