سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 278
سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ 278 (۵) والدہ صاحبہ ڈاکٹر محمد احمد صاحب قادیان جو جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کی حرم محترم ہیں نے تحریر فرمایا: " حضرت اُم المؤمنین مدظلہ العالی کے مبارک قدموں میں رہتے ہوئے اس عاجزہ کو ۲۵ سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔اس عرصہ میں میں نے ہمیشہ ہی ان کو ماؤں کی طرح شفقت کرتے ہوئے پایا۔شروع شروع میں وطن چھوڑنے کی وجہ سے میری طبیعت بہت اُداس رہتی تھی۔پریشانی کی حالت میں حضرت ام المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہو جایا کرتی اور جب میں وہاں جاتی تو مجھے ایسا معلوم ہوتا کہ میں نئی دنیا میں آ گئی ہوں اور مجھے وہ نعمت حاصل ہو گئی جس کے آگے تمام نعمتیں بیچ ہیں کچھ عرصہ بیٹھ کر گھر واپس آ جاتی اور دلی سکون و اطمینان حاصل ہو جانے کی وجہ سے اپنے کام میں مشغول ہو جاتی۔کبھی میرا چہرہ دیکھ کر اماں جان پہچان لیتیں اور فرماتیں کیوں پریشان کیوں ہو“۔(1) محتر مدامة الی صاحبہ انت جناب سیدال محمد غوث صاحب حیدر آباد کی لکھتی ہیں۔میں پہلی مرتبہ ۱۹۳۳ء کے سالانہ جلسہ پر قادیان آئی اور یہی میرا پہلا قادیان کا سفر تھا اور اس موقع پر میں نے حضرت اماں جان کی پہلی مرتبہ زیارت کی۔اس سال ہم اپنی والدہ مرحومہ کا جنازہ بھی لے کر گئے تھے۔دوسرے دن ہم حضرت اماں جان سے ملنے گئیں۔شام کا وقت تھا سردی کافی تھی۔حیدر آباد دکن میں سردی کم پڑتی ہے۔اس لئے عام طور پر ٹھنڈے کپڑے استعمال ہوتے ہیں۔اماں جان نے مجھے جالی کا کرتہ پہنے ہوئے دیکھ کر فرمایا: لڑ کی! تم کم از کم انگیٹھی کے پاس ہی بیٹھ جاؤ۔ان دنوں نمونیہ ہونے کا بہت خطرہ ہوتا ہے خوب گرم رہا کرو۔