سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 562
562 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت و معیت میسر آئی اور آخری ایام میں حضور پر نور کی خدمات بجالانے کی عزت و توفیق ہوئی تو اسی کام کی بدولت جس کیلئے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اخلاص و محبت سے مشورہ دیا تھا۔سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد جہاں اور کئی قسم کے تغیرات ہوئے۔نئے نظام قائم ہوئے۔وہاں ایک تغیر میری ذات سے بھی متعلق ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک روز کا واقعہ ہے شام کی نماز کے بعد میں مسجد مبارک کے شہ نشیں پر بیٹھا اور حبیب اور صحبت محبوب کے زمانہ کی مبارک ساعات کو یاد کر کے لطف اٹھا رہا تھا۔اچانک ایک آواز آئی نرم اور محبت بھری۔”میاں عبدالرحمن صاحب ذرا ادھر آنا۔میں نے کہا ”خواجہ صاحب بہت اچھا میں حاضر ہوا۔‘ مسجد کے ایک طرف محترم خواجہ کمال الدین صاحب ، مکرم جناب شیخ رحمت اللہ صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ٹھیک یاد نہیں کہ مولوی محمد علی صاحب بھی تھے یا نہیں۔آپس میں دیر سے کچھ باتیں کر رہے تھے۔مجھے مخاطب کر کے خواجہ صاحب نے فرمایا کہ ہم بہت دیر سے سوچ رہے تھے۔مگر موزوں آدمی کوئی نہ ملا۔آخر نظر تم پر آن کر ٹھہری اور مجھے یقین ہے کہ تم اس کام کے اہل ہو۔کام یہ ہے کہ حضرت کی زندگی میں تو لنگر خانہ کا نظام اور کام کلیۂ حضور کے ہاتھوں میں تھا۔حضور کی خوشی اور مرضی پر منحصر تھا۔مگر اب یہ بوجھ بھی انجمن کو ہی اٹھانا پڑ گیا ہے۔ہم نے بہت سوچ بچار اور غورو پرداخت کے بعد یہی فیصلہ کیا ہے کہ تم ہی اس کام کیلئے موزوں و مناسب ہو۔لہذا یہ کام 66 تمہارے سپرد کیا جاتا ہے۔کل سے اس کام کو ہاتھ میں لے لو۔خدمت کا موقعہ ہے ہم خرما وہم ثواب۔میں سیدنا حضرت اقدس مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی حین حیات میں بہت کچھ سن چکا تھا بلکہ حضوڑ کے سفر لاہور کے بالکل آخری ایام میں حضور کی زبان مبارک سے ان بزرگوں کے خیالات اور حضور پڑنور کی ناراضگی کے واقعہ کا چشم دید اور گوش شنید گواہ تھا۔میں نے عذر کیا اور معافی چاہتے ہوئے کہا۔واجب الاحترام بزرگو! آپ کے حسن ظن کے لئے شکر گزار ہوں اور خواہش ہے کہ آپ کی یہ حسن ظنی قائم دوائم رہے مگر اس کی یہی صورت ہے کہ آپ بزرگ مجھے اس کام سے معاف رکھیں۔مجھے اندیشہ ہے کہ آج جس کام کا آپ مجھے اہل سمجھ کر موزوں و مناسب خیال فرماتے ہیں۔کل بالکل نالائق اور