سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 563
563 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ نا اہل کہنے لگیں گے۔کیونکہ میں آپ کی مرضی اور خوشی کے مطابق کام نہ کر سکوں گا وغیرہ۔”میرا جواب سن کر سبھی اصحاب دنگ وششد رہ گئے۔دو ایک مرتبہ سمجھایا اور بات کو دہرایا بھی۔مگر میری طرف سے انکار پر اصرار پا کر میرا ہاتھ پکڑا اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیش جا کیا جو کہ و ہیں مسجد کے شرقی حصہ اور سڑھی کے جنگلہ کے جنوبی جانب ایک چار پائی پر لیٹے ذکر الہی میں مصروف تھے۔صاحب ممدوح نے مجھ سے ان اصحاب سے عدم تعاون کے لئے جواب طلبی فرمائی۔مگر میری عرضداشت اور تفصیلی گزارش سن کر مجھے معذور سمجھا اور انہیں کوئی اور انتظام کر لینے کی ہدایت فرما دی۔چنانچہ اس ڈیوٹی سے سبکدوش رہا۔مگر کارکنان انجمن کی بعض مصلحتوں کے ماتحت بہر حال مجھے صدرانجمن احمدیہ کی ملازمت میں لیا جانا ضروری سمجھ کر کسی اور کام میں لگا دیا گیا۔وو ۱۹۰۸ء کا جلسہ آیا ڈیوٹیاں لگائی گئیں۔مجھ نا کارہ کو بھی کسی لائق سمجھ کر سیدنا امام ہمام خیر الانام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت بجا لانے کا موقعہ دیا گیا۔چنانچہ اپنے آقائے نامدار کی قائم کردہ اس یادگار کی تقریب پر اخلاص شوق اور محبت سے اس طرح خدمات بجا لانے کی توفیق ملی کہ صدر انجمن احمدیہ نے بھی ایک ریزولیشن کے ذریعہ اپنی خوشنودی کا اظہار فرمایا اور حافظ عبدالرحیم صاحب مالیر کوٹلوی مرحوم اور مجھ کو دس دس روپے کا نقد انعام بھی عطا فرمایا۔میں اور حافظ عبدالرحیم صاحب مرحوم دونوں مل کر انتظام جلسہ میں خدمات بجالاتے رہے۔مگر اس سے کہیں بڑھ کر وہ نعمت تھی جو میری حقیقی ماں سے بھی کہیں بڑھ کر میری محسنہ سیدۃ النساء حضرت ام المؤمنین نے از راہ کرم اور غریب نوازی یہ احسان فرمایا کہ خود چل کر غریب خانہ پر تشریف لائیں اور سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک دستار مبارک مجھے بطور تبرک دیکر نوازا۔۱۹۰۹ء کا جلسہ سالانہ غالباً ۱۹۱۰ ء کے مارچ میں ہوا تھا۔جلسہ سے قبل کا واقعہ ہے کہ سیدۃ النساء حضرت ام المؤمنین کو بعض ضرورتوں کے ماتحت روپے کی فوری ضرورت پیش آئی جس کے لئے سیدہ ممدوحہ نے دہلی میں واقع اپنے ایک مکان کی فروخت کا ارادہ فرما کر مجھے حکم دیا کہ دہلی جا کر اس کام کو سرانجام دوں۔چنانچہ میں نے رخصت کی درخواست سیکرٹری صاحب صدرانجمن احمدیہ کی خدمت میں پیش کی اور دہلی چلا گیا جہاں کام میں کچھ رکاوٹ پیدا ہو گئی اور جلسہ سے پہلے وہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔