سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 561
561 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کی عزت و شرف کے مقابلہ میں بھائی جی اور ان کے ہم مشرب لوگ دنیا کی ہر عزت اور دولت کو قربان کر دینے کو عزیز رکھتے تھے۔حضرت شیخ عبدالرحمن نے جس نجی کام کا ذکر کیا ہے اور جس کے برکات وثمرات کا شکر گزاری کے لہجہ میں ذکر کیا ہے وہ الحکم کے صیغہ ادارت میں شمولیت تھی۔بھائی جی کے ساتھ میرے تعلقات اللہ کے لئے ہمیشہ مخلصانہ رہے اور کبھی ہم میں کسی امر کے متعلق اختلاف بھی ہوا تو اس نے اس محبت کے جذ بہ کو کم نہیں کیا۔مرحوم عرفاتی صغیر کی علالت کے دوران میں انہوں نے خود اور ان کی اہلیہ محترمہ نے جس محبت و اخلاص کا عملی اظہار فرمایا وہ مومنانہ اخوت کی ایک شان ہے اور خاکسار کے ساتھ ان کا برتاؤ ہمیشہ ایسا رہتا ہے۔جیسے دو مائی جائے بھائیوں میں ہو۔یہ داستان دوسرے وقت پر بیان ہو گی۔سردست میں ان کی ڈائری کے ایک ورق کو تبر کا درج کر رہا ہوں۔محمود مرحوم نے اور میں نے بھی سیرت کے لئے کچھ لکھنے کو کہا تھا مگر ان کی ناسازی مزاج اور بعض افکار نے موقعہ نہ دیا اور میرا دل چاہتا تھا کہ ان کا حصہ اس میں رہے اس لئے اس ورق کو درج کرتا ہوں۔( عرفانی کبیر ) دسمبر ۱۹۰۷ء کو جب میں احسن گنج کا مٹہ کشن گنج کوٹہ ( راجپوتانہ ) سے ایک چیتے کے شکار میں زخمی ہو کر واپس آیا جہاں مجھ نا کارہ غلام کو سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ایک عزیز مرزا محمد احسن بیگ صاحب کی اراضیات کی آبادی و انتظام کی غرض سے بھیجا ہوا تھا تو میں نے وجہ معاش کے لئے حضرت خلیفہ اول سے مشورہ چاہا۔حضور نے فرمایا۔چھوٹا موٹا جو بھی کام مل سکے کر لو فارغ اور بیکار ہرگز نہ رہنا۔میں نے ایک کام کا حوالہ دیکر عرض کیا وہ ملتا ہے۔مگر وہ چونکہ بالکل ایک پرائیوٹ اور ذاتی حیثیت کا ہے۔اس خیال سے اس کے لئے مجھے انشراح نہیں بلکہ تامل ہے۔لہذا صدرانجمن احمد یہ قادیان میں اگر کوئی کام مل جائے تو اچھا ہو۔میری خواہش اور عند یہ معلوم کر کے فرمایا۔بھولے میاں انجمن کے کام کو تم کیا سمجھتے ہو۔وہ تم کیا جانتے نہیں کہ وہ کتناز و در نج۔۔۔واقع ہوا ہے اور خلاف مرضی وہ کبھی برداشت ہی نہیں کر سکتا“۔صاحب ممدوح کا مشورہ میں نے سر آنکھوں پر رکھا اور پہلے شخصی کام کو ترجیح دیتے ہوئے اسی کو قبول واختیار کر لیا اور خدا کا فضل ہوا کہ وہ کام میرے لئے کئی قسم کی برکات ورحمتوں کا موجب ہو گیا۔