سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 369
369 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ۔یہ مصیبت اور مشکلات تیری کسی ناراضگی کا موجب تو نہیں۔اگر میری کوتاہی کی وجہ سے ہیں تو مجھے آگاہ کرتا میں اپنی اصلاح کروں۔میرے پیارے مولیٰ نے ایک رات میری زبان پر یہ الفاظ جاری کئے۔والضحى والليل اذا سجى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ ومَا قَلَى وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لك مِنَ الْأُولَى وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَی کہ اللہ تعالیٰ نے عروج و زوال انسان کے ساتھ رکھے ہوئے ہیں اور نہ تجھ کو اس نے چھوڑا ہے اور نہ ناراض ہوا ہے۔تیری آخرت تیری پہل سے بہتر ہوگی۔عنقریب تیرا رب تجھے اس قدر دے گا کہ تو راضی ہو جائے گا۔یہ الفاظ میں نے اس وقت سنے جب کہ یہ زمین اپنی وسعت کے باوجود میرے لئے تنگ تھی ہر طرف مایوسی ہی مایوسی نظر آتی تھی۔لیکن میں ان مشکلات اور مصائب میں ایک پہاڑ کی طرح کھڑا تھا۔اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کرم کا امیدوار تھا۔آخر اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کیا۔آج اللہ تعالیٰ کا کس قدر احسان ہے کہ اس نے صرف مجھے دنیا ہی نہیں دی بلکہ اپنے بے شمار رحم اور کرم فرما کر حقیقی معنوں میں مجھے عبداللہ بنا دیا۔آج میرا دل شکریہ اور اس کی محبت سے لبریز ہے۔میرا دل چاہتا ہے کہ جو کچھ میرا ہے وہ سب اس کی خاطر قربان ہو جائے اور میں اسی کا ہوکر رہ جاؤں۔میں آپ لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کی توفیق دے۔دراصل عملی طور سے ہے بھی یہی۔میں اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دو بیٹیوں کا خادم سمجھتا ہوں۔میری ساری کوشش اور محنت صرف اسی لئے ہے کہ اس پاک وجود کے جگر پارے آرام پائیں۔جن میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک کو میرے والد اور ایک کو میرے سپرد کیا ہے۔میرے دونوں بچے اللہ تعالیٰ کی خدمت کے لئے وقف ہیں۔میں یہاں اس لئے کام کر رہا ہوں وہ خدا اور رسول کے چمن کے مالی بنے رہیں۔وہ اپنے روزگار کی فکر سے آزاد ر ہیں۔وہ صرف اللہ کے بندے بنے رہیں۔ان کو کسی غیر کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔جبکہ وہ خدا تعالیٰ کیلئے وقف ہیں۔اللہ تعالیٰ خود ان کا کارساز ہو گا۔مجھے پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔لیکن اللہ تعالیٰ کا رسول فرماتا ہے۔تم میں سے وہ بہتر ہے کہ جو اپنی اولادکو آسودگی اور خوشحالی کی حالت میں چھوڑ جاتا ہے۔بہ نسبت اس کے جو تنگی اور فلاکت کی حالت میں ان کو چھوڑے۔یہ سب میری کوششیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کیلئے ہیں۔پس وہ کارکن یا معاونین جنھوں نے اس کام میں