سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 370 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 370

370 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ میری مدد کی ہے۔اگر وہ بھی اس کام کو اسی جذبہ اور اسی نیت کے ساتھ کریں گے جس کا میں نے اظہار کیا ہے تو یقیناً وہ نہ صرف مالی منفعت ہی حاصل کریں گے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم کے وہ مورد ہوں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ میں اپنے اکثر کارکنوں کو اسی جذبہ کے ماتحت کام کرتے ہوئے پاتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اخلاص اور محبت میں برکت دے اور اپنی نوازشوں اور رحمتوں سے ان کے گھروں کو بھرے دے۔جہاں وہ اس دنیا میں ہمارا ساتھ دے رہے ہیں۔آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کو ہمارے ساتھ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قرب میں جگہ دے۔آمین اللہ تعالیٰ شاہد ہے کہ اس رحمت اور برکت کو میں نے کبھی اپنی ذات کی طرف منسوب نہیں کیا۔حضرت ام المؤمنین علیہا السلام کی دعائیں میرے پر یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ حضرت اُم المؤمنین علیہا السلام کی دعاؤں کا طفیل ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے قلب میں میرے لئے پیار و محبت پیدا کر دیا ہے۔ایک وقت تھا کہ وہ خود بھی دعا ئیں فرماتی تھیں۔بلکہ ہر ایک کو کہتی تھیں کہ عبداللہ خاں کیلئے دعا ئیں کرو۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے بعد میری گردن جذ بات شکر اور محبت سے ان کے حضور جھکی ہوئی ہے۔میری والدہ جبکہ میں چار پانچ سال کا تھا فوت ہوگئی تھیں۔میں ماں کی محبت سے بے خبر تھا۔لیکن میرے ود و دو رؤف مولیٰ نے حضرت اماں جان کے وجود میں مجھے بہترین ماں اور بہترین ساس دی۔میں نے آج تک اس رقبہ کو حضرت اماں جان کا عطیہ تصور کیا۔بلکہ اس جہیز کا جز خیال کیا جو انہوں نے اپنی لڑکی کو دیا۔میں نے اسی جذ بہ شکر اور محبت کی وجہ سے اس رقبہ کا نام نصرت آباد آپ کی اجازت سے آپ کے نام مبارک پر رکھا ہے۔اس لئے یہ حضرت اماں جان کا عطیہ ہے۔ان کی دعاؤں کا ثمرہ ہے۔اب آپ لوگ خود ہی سمجھ لیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر سے آئی ہوئی چیز کس قدر بابرکت ہو سکتی ہے۔جب کبھی بھی کوئی دقت پیش آئی میں حضرت اماں جان کے حضور دعا کے لئے حاضر ہوتا ہوں۔وہ نہایت تڑپ سے میرے لئے دعائیں فرماتی ہیں۔اس لئے یہ سب خیر و برکت یہ دیانت وامانت کے پتلے یہ کوشش اور محنت کے مجسمے حضرت اماں جان کی دعاؤں کا ثمرہ ہیں۔پس اگر میں یا کوئی اور اس خیر و برکت کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے تو وہ سخت غلطی پر ہے۔اس کو آج نہیں تو کل ضرور شرمندگی اور ندامت کا منہ دیکھنا