سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 277
سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ 277 (۳) سیٹھ یوسف الہ دین صاحب لکھتے ہیں : کہ جب میں قادیان میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو میں بچہ ہی تھا۔حضرت اماں جان کے پاس میں زیارت کے لئے جایا کرتا تھا۔حضرت اماں جان مجھ سے اس طرح سلوک فرماتیں، جس طرح ایک حقیقی ماں اپنے بچے سے سلوک کرتی ہے۔آپ گھنٹوں مجھے اپنے پاس بٹھائے رکھتیں کھانے کا وقت ہوتا تو کھانا کھلاتیں۔آپ ایسے طرز اور شفقت سے با تیں فرماتیں کہ جس سے میری گھر اور والدین سے دوری کی وجہ سے گھبراہٹ اور بے چینی دور ہو جاتی اور گھر اور والدین کی یاد بھول جاتی۔میرے ساتھ ایک اور لڑکا محمد اسحاق جو منٹگمری کا تھا جایا کرتا تھا۔اماں جان کا اس سے بھی یہی سلوک تھا“۔(N) محتر مہامہ الحفیظ بیگم صاحہ اہلیہ چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر بی۔اے واقف تحریک جدید و بنت حضرت سیٹھ محمد غوث صاحب حیدر آباد تحریر فرماتی ہیں: ا۔دو سال قبل میں سخت بیمار ہو گئی تھی۔مگر حضرت امیر المومنین اور خاندان مسیح موعود کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت دے دی۔صحت کے بعد میں جب سالانہ جلسہ پر آئی اور حضرت اماں جان سے ملنے گئی تو اس وقت حضرت اماں جان پلنگ پر آرام فرما رہی تھیں۔مجھے دیکھ کر ہمہ شفقت اماں اٹھ کر بیٹھ گئیں۔مسرت سے آپ کا چہرہ مبارک چمک اُٹھا اور فرمانے لگیں کہ : خدایا شکر ہے میں نے حفیظ کو زندہ دیکھ لیا۔یہ ہے اس شفقت کا ایک ادنی کرشمہ جو اپنے خدام سے ہمیشہ روا رکھتی ہیں“۔۔میں نے ایک دفعہ حضرت اماں جان سے عرض کی کہ اماں جان میری انگوٹھی پر دعا کر دیں۔آپ نے میری اس درخواست پر نہایت شفقت سے اس انگوٹھی کو لے لیا اور فرمایا کہ میں رات کو اچھی طرح اس پر دعا کروں گی یہ کہ کر انگوٹھی اپنی انگلی مبارک میں پہن لی اور رات کو دعا فرما کر صبح کو ملازمہ کے ہاتھ میرے مکان پر بھیج دی۔