سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 276 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 276

276 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ” میری والدہ صاحبہ تھکان سے بیمار ہو گئیں تو اماں جان نے اُن کے لئے دوا کا انتظام فرمایا اور بار بار ان کی صحت کا حال دریافت فرماتیں۔کھانے کے وقت اماں جان ہم کو اپنے پاس بلا بھیجتیں۔ہم کو کھانے میں شریک فرماتیں اور ساتھ ساتھ اپنے بچپن کے زمانے کی باتیں سنا تھیں۔آپ کے اندر بڑا جذب اور بڑی کشش ہے۔آپ جب بلا تیں تو مجھے پیاری بٹیا کہہ کر بلاتیں۔آپ کی محبت اور شفقت تو ایسی ہے کہ میں نے کہیں دیکھی ہی نہیں۔اپنے پیارے اور متبرک ہاتھوں سے کھانا ڈال کر دیتیں۔گرم گرم روٹی میں گھی اور گڑ ڈال کر اس کو مل کو نوالہ بنا کر دیتیں۔سبحان اللہ ! یہ اخلاق تو سوائے اماں جان کے اور کسی کے نہ ہو نگے۔اماں جان خود بہت ہی کم خوراک تناول فرماتی ہیں۔اس سفر میں ہمارا سامان ریل میں دہلی کے سٹیشن پر رہ گیا۔اس لئے ہم کو بڑی تکلیف ہوگئی۔کپڑے بہت میلے کچیلے ہو گئے۔اس لئے میں شرم کے مارے ہر وقت برقع پہنے رہتی تو اماں جان نے وجہ دریافت فرمائی جب ان کو سامان پیچھے رہ جانے کا علم ہوا تو بہت رنج ہوا اور سامان ملنے کے لئے دعا فرمانے لگیں۔دو دن بعد سامان آ گیا اور ہم نے کپڑے بدلے تو اماں جان نے ہم کو مبارکباد دی۔میری پیٹھ پر تھپکی دے کر فرمایا۔میں اپنی پیاری بیٹی کے لئے اٹھتی بیٹھتی دعا کرتی تھی۔جلسہ کے دوسرے دن اماں جان کے سر درد ہو رہی تھی ھم کچھ عورتیں حلقہ بنا کر اماں جان کے گرد بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک خادمہ نے آکر کہا کہ اماں جان! باہر صحن میں بہت سی بیبیاں زیارت کے لئے بیٹھی ہیں۔آپ اسی وقت ان کو ملنے کے لئے باہر تشریف لے گئیں ہر ایک سے بات کی اس کی حالت دریافت کی۔شرف مصافحہ بخشا۔اماں جان نے ہمارے ساتھ اس قدر شفقت کا برتاؤ کیا کہ واپسی پر ہمارے لئے اپنے ہاتھ سے تو شہ تیار کر کے دیا۔ہمارے سامان کی گفتی فرمائی اور اپنی دعاؤں کے ساتھ ہم کو رخصت کیا۔ہم یہ تبرک سکندر آباد تک ساتھ لائے۔