سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 184 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 184

184 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور بہادری تاریخ کے سنہری اوراق کا جزو بن کر رہ گئی۔جب کہ حکومت کے اراکین خود با دشاہ عیش و عشرت میں محو تھا۔اس وقت خان دوران ایک چوکس محافظ کی طرح سلطنت کو سنبھالے ہوئے تھا۔گویا کہ وہ ہی محمد شاہ کے پردے میں ہندوستان پر حکومت کر رہا تھا۔میں نے یہ سب کچھ کیوں لکھا ؟ حضرت ام المؤمنین کے خاندان کے متعلق میں نے بہت زیادہ لکھا ہے۔حتی کہ نصف سے بھی زیادہ کتاب اسی موضوع پر بھر گئی۔دیکھنے والا یہ بھی کہ سکتا ہے کہ یہ سارا مضمون زیادہ سے زیادہ پچاس صفحات میں آ سکتا تھا مگر مصنف کے دماغ کے اندر کئی مخفی خیالات کام کر رہے ہوتے ہیں جن کو کبھی وہ پبلک کیلئے کھولنا ضروری نہیں سمجھتا اور پبلک ان امور کو کبھی محل اعتراض بنا لیتی ہے اور کبھی مقام مدح۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ میں پبلک کو کسی خلجان میں ڈالے بغیر اس حقیقت کو بھی کھول دوں۔دراصل یه سارا بیان تفسیر ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چند فقروں کی۔آپ تحریر فرماتے ہیں: اور الہامات میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ قوم کے شریف اور عالی خاندان ہوں گے۔چنانچہ ایک الہام میں تھا کہ خدا نے تمہیں اچھے خاندان میں پیدا کیا اور پھر اچھے خاندان سے دامادی کا تعلق بخش بغیر ظاہری تلاش اور محنت کے محض خدا تعالیٰ کی طرف سے تقریب نکل آئی۔یعنی نہایت نجیب اور شریف اور عالی نسب اور بزرگوار خاندان سادات سے یہ تعلق قرابت اس عاجز کو پیدا ہوا۔۳۵ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس خاندان کی نجابت ،شرافت، عالی نسبی اور بزرگواری کی کوئی تفصیل نہیں دی۔البتہ اس قدر لکھا ہے کہ یہ خاندان خواجہ میر درد صاحب مرحوم دہلوی کے روشن خاندان کی یادگار ہیں جن کی علو خاندانی کو دیکھ کر بعض نوابوں نے انہیں اپنی لڑکیاں دی تھیں۔” جیسے نواب امین الدین خان والد بزرگوار نواب علاؤالدین خان والئے ریاست لوہارو کی لڑکی میر ناصر نواب صاحب نحسر اس عاجز کے بڑے بھائی کو بیاہی گئی ایسے بزرگوار خاندان سادات سے یہ تعلق قرابت اس عاجز کو پیدا ہوا۔اس سے زیادہ تشریح نہیں فرمائی۔مگر میں نے اس خاندانی تذکرے میں یہ بتلایا ہے کہ کس طرح مغل بادشاہ خواجہ میر درد کے بزرگوں کی عزت کرتے تھے کس