سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 185 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 185

185 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ طرح قلعہ دہلی میں ان کو دعوتیں ہوئی تھیں۔مغلیہ بادشاہوں نے اپنی لڑکیاں ان کے لڑکوں کو دیں اور پھر بڑے بڑے عہدے ان کو دیے۔ان میں سے بعض بڑے خطاب یافتہ تھے۔ان میں سے نواب بھی تھے۔ہفت ہزاری تھے۔فوج اور سول کے عہدہ دار تھے۔پھر یہی نہیں کہ خواجہ میر درد کے گھرانے کا یہ حال تھا۔بلکہ نواب خان دوران جو حضرت میر ناصر نواب صاحب کے پردادا تھے وہ اتنی شخصیت کے آدمی تھے کہ روسی میجر جنرل سیولوف ان کے متعلق لکھتا ہے کہ : وہ ہندوستان کے خود مختار حاکم تھے۔“ ان کا ایک بیٹا وزیر اعظم تھا۔دوسرا بیٹا بھی فوج میں افسر تھا۔بھائی بھی فوج میں میر آتش یعنی افسر بار و دخانہ تھا۔ان کے ماموں امیر الامراء عزیز میرزا گوگلتاش کمانڈر انچیف افواج ہند تھے۔وہ لوگ صاحب جاگیر بھی تھے۔ان کے پاس اپنی ذاتی فوجیں بھی تھیں۔دولت ،شوکت ،حکومت سب کچھ تھا اور وہ اپنے حسب نسب کے لحاظ سے اور اپنے تقویٰ طہارت کے لحاظ سے ممتاز تھے۔وہ مرجع خلائق بنے ہوئے تھے۔بادشاہ، امراء، وزراء، ادباء، شعراء، علماء سب ان کی مجلسوں میں مؤدب بیٹھا کرتے تھے۔ہندوستان میں ان میں سے بعض اپنے وقت میں ایسے تھے کہ بادشاہ ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے تھے۔یہ وہ لوگ تھے ، اگر چاہتے تو آخری زمانہ میں اپنی سلطنتیں قائم کر لیتے۔الغرض میں نے اس خاندان کی ساری اور مفصل تاریخ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ کی تشریح کے لئے لکھی۔تا خدا کے مامور ومرسل اور نبی کے ہاتھ کے لکھے ہوئے نوشتے واقعات سے بچے ثابت ہوں۔سیرت اور سوانح عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ سیرت اور سوانح میں فرق نہیں کرتے۔سوانح سے مراد وہ واقعات و حالات ہوتے ہیں جو کسی انسان کی زندگی میں اچھے یا بُرے، خوشگوار یا بدمزہ پیش آتے رہتے ہیں۔مگر سیرت سے مراد ایسا موضوع ہوتا ہے جو اس کی عملی زندگی اور اس کی اخلاقی قوتوں اور اس کے مخفی جذبات کو اُبھار کر اور بڑا کر کے لوگوں کو دکھا سکے تا کہ لوگ اس سے راہنمائی حاصل کر سکیں۔