سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 183 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 183

183 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ دوران خان کے گھر سے ایک کروڑ روپیہ کا مال برآمد ہوا۔روسی میجر جنرل سیولوف لکھتا ہے : محمد شاہ سرتا پا عیش وعشرت میں غرق ہو گیا۔خان دوران میر بخشی یعنی پے ماسٹر جنرل مقرر ہوا اور امیر الامراء کے خطاب سے مخاطب ہوا۔اس طرح تمام اراکین دولت سے رتبہ میں بڑھ گیا۔امیر الامراء ذمہ داری کے عہدوں پر اپنے آدمیوں کو مامور کر کے محمد شاہ پر بخوبی حاوی ہو گیا۔بادشاہ کو اس پر کامل اعتماد تھا۔تھوڑے ہی دنوں میں یہ سابق مقتول امیر الامراء حسین علی خان کی طرح خود مختاری سے حکومت کرنے لگا۔جب محمد امین خان وزیر اعظم کا انتقال ہوا۔تو اس کا نوجوان لڑکا قمر الدین خان اس منصب جلیلہ پر سرفراز ہوا۔۳۲۴ میدان جنگ میں جب نادر شاہ سے جنگ ہو رہی تھی۔اس وقت سعادت خان نے اپنی فوج سمیت اپنے آپ کو دشمن کے حوالے کر دیا اور خان دوران تن تنہا نادر شاہ کے مقابلہ کے لئے رہ گیا۔تاہم خان موصوف نے دشمن کو خوفناک طور پر شکست دی۔۔۔مگر وہ خود بھی مہلک طور سے زخمی ہو گیا تھا۔خان دوران جب محمد شاہ کے حضور لایا گیا تو اس نے بادشاہ سے گزارش کی کہ وہ باقی ماندہ ۳۸ ہزار سپاہ اور دوسو ا تو اپ سے دشمن کا مقابلہ کرے اور اسے ہرگز دم نہ لینے دے مگر بد قسمتی سے بادشاہ مذبذب رہا۔خان دوران کے سپاہ اس کے بہادر بھائی مظفر خان کی ماتحتی میں نادری سپاہ کے مقابلہ میں بدستور ڈٹی رہیں۔رات کو خان دوران نے پھر شاہنشاہ سے ملاقات کی اور قرار پایا کہ صبح کو از سرنو جنگ شروع کی جائے۔مگر بدقسمتی سے خان موصوف اس مہلک زخم کی وجہ سے جو میدان جنگ میں لگا تھا۔جانبر نہ ہوسکا۔۳۳ خان دوران کی وفات کے بعد نظام الملک آصف جاہ اوّل کمانڈر انچیف افواج ہند اور خطاب امیر الامراء سے سرفراز ہوا۔“ ۳۴ ان دونو جوانوں سے خان دوران کے اثر رسوخ ، سلطنت دہلی پر اقتدار اور ان کے خاندان کا بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہونا معلوم ہوتا ہے۔نیز یہ کہ خان دوران وہ فرد وحید تھا۔جس نے نادرشاہ کی افواج سے ڈٹ کر مقابلہ کیا وہ مر گیا مگر اس نے سلطنت سے وفاداری نہ چھوڑی۔اس کی شجاعت