سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 131 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 131

131 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تتلہ آج پون صدی گزر جانے کے بعد بھی اس قابل نہیں کہ کوئی پڑھا لکھا آدمی وہاں رہ سکے۔تمدن کی ہر منزل سے دور وہاں کے لوگ آج بھی بالکل گنوار اور اُجڑ ہیں ان کے مکان بالکل دیہاتی وضع قطع کے ہیں۔چہ جائیکہ ایک دہلی کا معزز انسان جو نہ صرف اپنے حسب و نسب کی وجہ سے ہی بڑا آدمی تھا۔بلکہ اس شان وشوکت کے لحاظ سے جس کا نقشہ ہم پچھلے اوراق میں دکھا چکے ہیں ایک بڑے خاندان کا ایک فرد تھا۔ان کے گھر کے لوگ اس قسم کی دیہاتی زندگی کے قطعاً عادی نہ تھے مگر حضرت میر صاحب نے ان گنواروں میں ہی ایک مدت گزار دی۔جناب میرزا غلام قادر صاحب جو ان ایام میں ضلع کے افسروں میں سے ہونے کے علاوہ اپنے علاقہ کے رئیس تھے ان کا اس گاؤں کے لوگوں کو بد معاش کہنا اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا تھا مگر یہ ان لوگوں کا کمال نہ تھا کہ انہوں نے حضرت میر صاحب کو کوئی گزند نہیں پہنچایا۔بلکہ حضرت میر صاحب کا کمال اور ان کی شرافت ذاتی کا نتیجہ تھا کہ اس قسم کے لوگ بھی ان کے سامنے مسخر ہو کر رہتے۔الغرض حضرت میر صاحب کو اللہ تعالیٰ ملازمت کے سلسلہ میں قادیان سے دومیل کے فاصلہ پر لے آیا اور پھر نانی اماں کی بیماری کے سلسلہ میں ان کو قادیان لے آیا۔اور پھر حالات نے ذرا اور صورت بدل لی اور حضرت میر صاحب قادیان میں ہی آ رہے اور نہ صرف قادیان میں ہی آ رہے بلکہ خود حضرت مسیح موعود کے گھر میں اور یہ اس لئے ہوا کہ حضرت میر صاحب اور ان کی حرم محترم قریب سے ہو کر اس برگزیدہ انسان کو دیکھ سکیں جو کل کو حضرت میر صاحب سے نسبت دامادی حاصل کرنے والا تھا۔چنانچہ نانی اماں فرماتی ہیں: ان دنوں میں جب بھی تمہارے تایا گورداسپور سے قادیان آتے تھے تو ہمارے لئے پان لایا کرتے تھے اور میں ان کے واسطے کوئی اچھا سا کھانا وغیرہ تیار کر کے بھیجا کرتی تھی۔ایک دفعہ جو میں نے شامی کباب ان کے لئے تیار کئے اور بھیجے گی تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ گورداسپور واپس چلے گئے ہیں۔جس پر مجھے خیال آیا کہ کباب تو تیار ہی ہیں۔میں ان کے چھوٹے بھائی کو بھجوا دیتی ہوں۔چنانچہ میں نے نائن کے ہاتھ تمہارے ابا کو کباب بھجوا دیے اور نائن نے مجھے آ کر کہا کہ وہ بہت ہی شکر گزار ہوئے اور انہوں نے بڑی خوشی سے کباب کھائے اور اس دن انہوں نے گھر سے آیا ہوا کھانا نہیں کھایا۔اس کے بعد میں ہر دوسرے