سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 132 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 132

132 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تیسرے دن کو کچھ کھانا بنا کر بھیج دیا کرتی اور وہ بڑی خوشی سے کھاتے تھے لیکن جب اس بات کی اطلاع تمہاری تائی کو ہوئی تو انہوں نے بہت بُرا منایا کہ میں کیوں ان کو کھانا بھیجتی ہوں۔کیونکہ وہ اس زمانہ میں تمہارے ابا کی سخت مخالف تھیں اور چونکہ گھر کا سارا انتظام ان کے ہاتھ میں تھا وہ ہر بات میں ان کو تکلیف پہنچاتی تھیں۔مگر تمہارے ابا صبر کے ساتھ ہر بات کو برداشت کرتے تھے۔ان دنوں میں گو میر صاحب کا زیادہ تعلق تمہارے تایا سے تھا مگر وہ کبھی کبھی گھر میں آ کر کہا کرتے تھے کہ میرزا غلام قادر کا چھوٹا بھائی بہت نیک اور متقی آدمی ہے۔اس کے بعد ہم رخصت پر دہلی گئے۔9 یت کے اس ٹکڑے سے بھی بہت سے امور کا استدلال ہوتا ہے قبل اس کے کہ ہم اس استدلال کو لکھیں۔یہاں اس قدر تو ضیح کی ضرورت معلوم ہوتی ہے کہ حضرت نانی اماں نے اپنی روایت میں جو یہ لکھا ہے کہ ہم قادیان سے رخصت پر دہلی گئے۔یہ ان کو ذہول ہوا ہے۔کیونکہ حضرت نانا جان نے اپنی خودنوشت سوانح میں لکھا ہے کہ : چند ماہ کے بعد اس عاجز کی بدلی قادیان سے لا ہور کے ضلع میں ہو گئی۔اس وقت چند روز کے لئے بندہ اپنے اہل وعیال کو حضرت میرزا صاحب کے مشورے سے ان کے دولت خانہ چھوڑ گیا تھا اور جب وہاں مکان کا بندوبست ہو گیا تو آ کر لے گیا۔میں نے اپنے گھر والوں سے سنا کہ جب تک میرے گھر کے لوگ میرزا صاحب کے گھر میں رہے میرزا صاحب کبھی گھر میں داخل نہیں ہوئے بلکہ باہر کے مکان میں رہے۔اس قدر ان کو میری عزت کا خیال تھا۔وہ بھی عجب وقت تھا۔حضرت صاحب گوشہ نشین تھے عبادت اور تصنیف میں مشغول رہتے تھے۔10 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میر صاحب کی تبدیلی قادیان سے ضلع لاہور میں ہوئی تھی اور حضرت میر صاحب قادیان سے لاہور ہی کو تشریف لے گئے تھے نہ کہ دہلی کو۔الغرض اس طرح حضرت میر صاحب ایک نہایت عجیب طریق سے الہی منشاء کے ماتحت حضرت صاحب کے گھر میں آئے۔یہاں اُن پر اور اُن کی حرم محترم پر جو اثر پڑا اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔