سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 130
130 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھئے احوال کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے اس واقعہ کو حضرت نانی اماں صاحبہ مرحومہ نے حضرت میاں بشیر احمد صاحب سے یوں بیان کیا جسے انہوں نے اپنی قیمتی تصنیف سیرۃ المہدی حصہ دوم کے صفحہ ۱۰۹ پر درج فرمایا ہے: ”خاکسار کی نانی اماں نے مجھ سے بیان کیا کہ جب تمہارے نانا جان کی اس نہر کے بنوانے پر ڈیوٹی لگی جو قادیان سے غرب کی طرف دو ڈھائی میل کے فاصلہ پر سے گزرتی ہے ( یعنی موضع تتلہ کی نہر ) تو اس وقت تمہارے تایا میرزا غلام قادر صاحب کے ساتھ ان کا کچھ تعارف ہو گیا اور اتفاق سے ان دنوں میں کچھ بیمار ہوئی تو تمہارے تایا نے میر صاحب سے کہا کہ میرے والد صاحب بہت ماہر طبیب ہیں آپ ان سے علاج کرائیں۔چنانچہ تمہارے نانا مجھے ڈولے میں بٹھا کر قادیان لائے۔جب میں یہاں آئی تو نیچے کی منزل میں تمہارے تایا مجلس لگائے ہوئے بیٹھے تھے اور کچھ لوگ اُن کے آپس پاس ایک نیچے کی کوٹھڑی میں تمہارے ابا ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) ایک کھڑکی کے پاس بیٹھے ہوئے قرآن شریف پڑھ رہے تھے اور اوپر کی منزل میں تمہارے دادا صاحب تھے۔تمہارے دادا نے میری نبض دیکھی اور ایک نسخہ لکھ دیا اور پھر میر صاحب کے ساتھ اپنے دتی جانے اور وہاں حکیم محمد شریف صاحب سے علم طب سیکھنے کا ذکر کرتے رہے۔( یہ واقعہ ۸۷۶اء کا ہے ) اس کے بعد جب میں دوسری دفعہ قادیان آئی تو تمہارے دادا فوت ہو چکے تھے اور ان کی برسی کا دن تھا جو قدیم رسوم کے مطابق منائی جارہی تھی۔چنانچہ ہمارے گھر بھی بہت سا کھانا وغیرہ آیا تھا۔اس دفعہ تمہارے تایا نے میر صاحب سے کہا کہ آپ تتلہ میں رہتے ہیں وہاں آپ کو تکلیف ہوتی ہو گی اور وہ گاؤں بھی بدمعاش لوگوں کا گاؤں ہے۔بہتر ہے آپ یہاں ہمارے مکان میں آجائیں۔میں گورداسپور رہتا ہوں۔غلام احمد ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) بھی گھر میں کم آتا ہے۔اس لئے آپ کو پردہ وغیرہ کی تکلیف نہ ہوگی۔چنانچہ میر صاحب نے مان لیا اور ہم یہاں آ کر رہنے لگے۔۵ ان دنوں حضرت اُم المؤمنین کی عمر تیرہ سال کی تھی۔اس واقعہ سے جہاں اس امر کا پتہ چلتا ہے کہ حضرت میر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح قادیان تک پہنچایا۔وہاں حضرت میر صاحب کی سادہ زندگی اور شرافت نفس کا پتہ بھی چلتا ہے۔کیونکہ موضع