سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 80 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 80

80 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ان آثار رشد و ہدایت کی وجہ سے جو خواجہ میر درد کے اندر ظہور پذیر تھے، خواجہ محمد ناصر کو خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اپنے لخت جگر کو اپنا مرید بنا کر بقا باللہ کا درجہ دلا دیں۔چنانچہ ان کو خیال ہوا کہ وہ گھر میں اپنی والدہ کے پاس سو ر ہا ہوگا وہیں سے اس کو جگا کر لے آتا ہوں انہوں نے اپنے حجرہ کا دروازہ کھولا چونکہ اندھیرا تھا کچھ پتہ نہ لگتا تھا۔ادھر خواجہ میر درد کی یہ حالت تھی کہ وہ حجرہ کی سیڑھی سے جدا نہ ہوتے۔چنانچہ وہیں سو رہے تھے۔خواجہ میر محمد ناصر صاحب نے دروازہ کھولا تو اُن کا پاؤں بیٹے کے جسم پر پڑا۔حیران ہو کر پوچھا کون سوتا ہے؟ خواجہ میر درد نے فورا عرض کی حضور میں ہوں۔اور ساتھ ہی اپنے باپ کو زندہ دیکھ کر فرط محبت سے رونے لگے۔خواجہ محمد ناصر صاحب نے اُن کو تسلی دی اور کہا کہ خدا نے ہم کو ایک عزت سے مشرف کیا ہے اور حجرہ میں لے جا کر سب حالات بتلا کر ان کی بیعت لے لی۔اس طرح تیرہ سال کی عمر میں نہ صرف ظاہری علوم سے حصہ وافر حاصل کر لیا بلکہ روحانی فیض سے بھی فیض یاب ہو گئے۔خواجہ میر درد کی دُعا کا اثر جس روز خواجہ میر درد صاحب نے اپنے والد صاحب کی بیعت کی اُس کی صبح کو بر مدہ کے نالہ میں ایک شخص آیا۔اس کے ساتھ ایک زنانی ڈولی تھی۔اُس نے لوگوں سے خواجہ میر درد کا گھر پوچھا۔لوگوں کی توجہ اس طرف نہ ہوسکی۔انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی خواجہ میر در دنہیں رہتا ایک لڑکا ۱۳ ۱۴ سال کا ہے۔اُس شخص نے کہا کہ ہاں وہی ہیں چنانچہ خواجہ محمد ناصر صاحب کے مکان کا پتہ دیا گیا۔وہ خواجہ محمد ناصر صاحب کے مکان پر آیا اور عرض کی کہ میری بیوی سل دق میں مبتلا ہے۔میں روزانہ اس کی صحت کیلئے دعا کرتا تھا آج مجھے خواب میں کہا گیا کہ وہ خواجہ میر درد کی دعا سے اچھی ہوگی۔چنانچہ وہ مریضہ خواجہ میر درد کی دعا سے اچھی ہوگئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں دعویٰ سے قبل بہت سے ایسے واقعات ظہور پذیر ہوئے۔مثلاً لالہ ملا وامل جس کو تپ دق ہو گیا تھاوہ آپ کی دعا سے اچھے ہو گئے۔کا اسی طرح جناب میرزا غلام قادر صاحب جو بالکل مُردہ ہو چکے تھے آپ کی دعا سے اچھے ہو گئے۔۱۸