سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 72
72 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور مُریدوں کے لئے اس میں دونوں جہان کی برکات داخل فرما دیں۔جو شخص از راہ عقیدت لفظ ناصر کو اپنی یا اپنی اولاد کے نام میں شامل کرے گا۔اس کی برکت سے ہمیشہ مظفر ومنصور رہے گا اور آتش دوزخ اس پر حرام کر دی جائے گی اور جو شخص اپنی کتاب یا خط کی پیشانی پر هُوَ النَّاصِر“ تحریر کرے گا۔اس کتاب اور خط کے مطالب کو کامیابی ہوگی۔“ ۱۵ اس بناء پر آپ نے یعنی حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب نے اپنا نام دلیل الناصر رکھا اور اس کے بعد آپ کی تمام اولاد ذكور واناث کے ناموں میں لفظ ناصر ایک جز وقرار دیا گیا۔یہاں تک اپنے غلاموں کے نام بھی ناصرقلی اور ناصر بخش وغیرہ رکھے گئے۔حتی کہ جس چیز پر وہ بیٹھ کر سہارا لیتے تھے اس کا نام بھی ناصری رکھ دیا گیا۔ایک عجیب اتفاق جیسے کہ پیشگوئی تھی کہ ” یہ نسبت حضرت امام موعود علیہ السلام کی ذات پاک پر ختم ہو جائے گی اور تمام جہان ایک نور سے روشن ہوگا اور اس نئیر اعظم کے انوار میں سب فرقوں کے ستاروں کی روشنی گم ہو جائے گی۔“ بالکل اس پیشگوئی کے مطابق سب فرقوں کی روشنی گم ہوگئی اور فرقہ محمدیہ خالصہ بھی ختم ہو گیا اب ان کے ناموں میں بھی وہ بات نہ رہی۔مگر حضرت اُم المؤمنین نصرت جہان بیگم کے ذریعے کسی خاص قصد سے نہیں بلکہ خود بخود یہ چیز سلسلہ احمدیہ اور خاندان نبوت میں منتقل ہو گئی۔صاحبزادگان میں سے میرزا ناصر احمد صاحب، میرزا منصور احمد صاحب ، صاحبزادیوں میں سے صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ، منصورہ بیگم صاحبہ۔لفظ ناصر کے حامل ہیں۔ناصر آباد ایک محلہ کا نام رکھا گیا۔نصرت گرلز سکول ایک مدرسہ کا نام رکھا گیا۔النصرت حضرت میرزا ناصر احمد صاحب کی کوٹھی کا نام رکھا گیا اور اس طرح وہ لفظ ناصر بھی سلسلہ محمدیہ سے منتقل ہو کر سلسلہ احمدیہ میں آ گیا۔جماعت میں ہزار ہا افراد کے نام کے ساتھ ناصر کا لفظ استعمال ہونے لگا۔عبداللہ ناصر مجھے یاد ہے کہ میرا ایک عزیز بھائی تھا۔جس کا نام حضرت خلیفہ المسح الاول نے عبداللہ رکھا تھا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو از راہ شفقت و محبت حضرت والد صاحب کے