سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 68 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 68

68 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور شاگرد تھے۔ولی کے متعلق مولانا آزاد نے لکھا ہے: کہ ولی اللہ کی برکت نے اُسے وہ زور بخشا کہ آج ہند کی شاعری نظم فارسی سے ایک قدم پیچھے نہیں۔تمام بحریں فارسی کی اُردو میں لائے۔شعر کو غزل اور غزل کو قافیہ ردیف سے سجایا۔ردیف وار دیوان بنایا۔ساتھ اس کے رباعی ، قطعہ مخمس اور مثنوی کا ستہ بھی نکالا۔انہیں ہندوستان کی نظم میں وہی رتبہ ہے جو انگریزی نظم میں چاسر شاعر کو اور فارسی میں رود کی کو اور عربی میں مہلہل کو۔2 ان کی وجہ سے اُردو زبان میں بڑی ترقی ہوئی تھی۔وہ احمد آباد گجرات کے رہنے والے تھے۔مگر دتی میں سکونت پذیر ہو گئے تھے۔ایک شعر میں کہتے ہیں۔دل ولی کا لے لیا دتی نے چھین جا کہو کوئی محمد شاه سونا الغرض شاہ گلشن کی صحبت میں ہر قسم کے باکمال علم و ادب جمع ہوا کرتے تھے۔شاہ گلشن صاحب کے کہا جاتا ہے کہ دو لاکھ کے قریب شعر تھے مگر اب ان کا کوئی دیوان موجود نہیں۔بعض اشعارا دھر اُدھر سے دستیاب ہوتے ہیں۔آب حیات میں بھی دو شعر لکھے ہیں : گشتم شهید تیغ تغافل کشیدنت جانم زدست برد غزالانه دیدنت بدقت میتوانی فہم معنی ہائے ناز او که شرح حکمت العین است مژگان داز او ایسے علامہ اور فاضل اجل اور ادیب کبیر کی صحبت میں حضرت خواجہ محمد ناصر آنے جانے لگے۔خواجہ محمد ناصر صاحب کی بیعت ظاہری کچھ دنوں کے بعد جناب شاہ گلشن صاحب آپ کو اپنے مرشد زادہ خواجہ محمد زبیر صاحب کے پاس لے گئے۔انہوں نے آپ کو دیکھ کر خندہ پیشانی سے اپنا مرید کر لیا۔خواجہ محمد زبیر صاحب کا سلسلہ درویشی بھی سید خواجہ بہاء الدین صاحب نقشبند رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے چلتا ہے۔خواجہ محمد زبیر صاحب