سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 67 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 67

67 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ روشنی اور منار حضرت خواجہ سید محمد ناصر صاحب کو کشف میں روشنی دکھائی گئی۔روشنی دی گئی۔مسیح موعود کا نام یر اعظم ( خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں آپ کو شمس و قمر کے نام سے بھی پکارا گیا ) رکھا جو روشنی کا منبع اور مصدر ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں جو لفظ مناررکھا گیا تھا اس کو اس روشنی سے نہ صرف ایک نسبت ہی تھی بلکہ اس روشنی کا مقام اونچا کر کے بھی دکھایا گیا۔یہ باتیں اس کشف میں غور طلب ہیں اس لئے میں نے ایک لمبی اور مفصل بحث اس پر کی۔ابھی اس کشف کے بعض دوسرے غوامض بھی ہیں جو اپنی جگہ پر واضح کئے جائیں گے۔وباللہ التوفیق یہ امر بھی یادر ہے کہ دنیا میں تصوف کے بہت سے طریقے ہیں۔شادلی، رفاعی، چشتی ، صابری، سہروردی، نظامی وغیرہ وغیرہ۔مگر فرقہ محمدیہ صرف اور صرف ایک یہی تھا۔حضرت شیخ سعد اللہ صاحب عرف شاہ گلشن صاحب مجددی نقشبندی کی صحبت حضرت خواجہ میر محمد ناصر صاحب کو اس ارشاد کے ماتحت جو حضرت امام حسنؓ کے ذریعے حاصل ہوا تھا کہ ظاہری طور پر بھی کسی کی بیعت کر لینا۔کسی بزرگ کی جستجو ہوئی۔چنانچہ انہوں نے یہ پسند کیا کہ وہ حضرت شاہ گلشن صاحب نقشبندی کی طرف رجوع کریں جو حضرت بہاء الدین نقشبند کے سلسلہ نقشبندیہ میں اس وقت دہلی میں شہرت کامل رکھتے تھے۔چنانچہ حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب نے ان کے پاس حاضر ہوکر سارا واقعہ عرض کیا۔انہوں نے ان کی عظمت اور نیکی کے مقام کو جانتے ہوئے بیعت لینے سے عذر کیا۔البتہ یہ کہا کہ آپ کبھی کبھی میرے فقیر خانہ پر تشریف لایا کریں۔جو کچھ مجھے آتا ہے بغیر بیعت کے آپ کو بتا دونگا۔نیز چونکہ آپ صاحب مذاق شعر و شاعری کے بھی ہیں اور فقیر بھی موزون طبع ہے۔اس لئے نظم و نثر کی بھی مشق رہے گی“۔اس زمانے میں تمام امراء کے بچے اور شاہزادے اور شعراء اور علماءفضلاء، ادباء،حکماءسب آپ کی مجلس میں حاضر ہوا کرتے تھے اور بڑی علمی مجلسیں قائم ہوا کرتی تھیں۔میرزا عبدالقادر صاحب بیدل جو اس زمانہ کے مشہور شعراء میں سے تھے، آپ کی مجلس میں موڈب بیٹھا کرتے تھے اور شمس ولی اللہ ولی جن کو مصنف آب حیات نے صفحہ ۸۸ پر نظم اُردو کا آدم لکھا ہے۔آپ کے مرید