سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 65 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 65

65 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ واضح کیا گیا۔ایک خاص نتیجہ اس پیشگوئی سے یہ بھی نکلتا ہے کہ محمد تین کا حضرت مہدی موعود علیہ السلام سے کوئی خاص تعلق ہوگا کیونکہ محمد بین پر اتری ہوئی نعمت جہاں ایک طرف ختم ہو رہی ہوگی وہاں ایک دوسری نعمت کا آغاز ہورہا ہوگا۔میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پہلی نعمت کا آخری سرا مہدی موعود علیہ السلام کی نعمت کے ابتدائی سرے سے مل کر پھر نئی صورت میں اس کا آغاز ہو جائے گا۔چنانچہ بالکل ایسا ہی ہوا۔حضرت خواجہ محمد امیر صاحب اس سلسلہ محمد یہ میں آخری خلیفہ تھے۔جو ۱۰ ستمبر ۱۸۰۴ء کو فوت ہو گئے اور ان کے بعد کوئی حقیقی جانشین نہ ہو سکا۔اگر چہ خانہ پری کے طور پر حضرت محمد امیر صاحب کے بیٹے خواجہ ناصر وزیر کو گدی نشین کر دیا گیا۔مگر اُن کے بعد خانہ پُری بھی نہ ہو سکی۔اب اس خلافت کے اصل وارث حضرت میر ناصر نواب صاحب قبلہ تھے جو مہدی موعود علیہ السلام پر ایمان لائے اور انہوں نے اپنی اکلوتی بیٹی نصرت جہان بیگم کو جو ان تمام برکات اور نوروں کی حامل تھیں جو حضرت امام حسن اور حسین سے اُس وقت چلے آتے تھے۔حضرت مسیح موعود مہدی مسعود کے نکاح میں دے دیا۔اس طرح وہ روشنی اس نیر اعظم میں گم ہوگئی اور اس طرح اس خاندان کی روشنی کا آخری سرا جو خاتمہ کا سرا تھا مہدی موعود کے ابتدائی سرے سے مل کر نئے روپ ، نئی شان، نئے رنگ میں ظہور پذیر ہوا۔جن کی آنکھیں ہیں دیکھیں اور جن کے کان ہیں سن لیں اور جن کو دل و دماغ میٹر ہیں وہ سوچیں کہ کیا یہ انسانی تدابیر ہیں۔کیا یہ سوچا ہوا منصوبہ ہے۔کیا کوئی اس طرح انسانی تدابیر سے خدا کی مقرر شدہ تقدیروں کو بدل سکتا ہے۔ہر گز نہیں۔پس دیکھو آفتاب صداقت چڑھ آیا ہے اس کو دیکھ کر تمہاری آنکھیں کیوں چندھیا گئیں اور کیوں تم قبول حق کے لئے آگے نہیں بڑھتے۔یہ پیشگوئی جو بڑی وضاحت سے پوری ہوئی ایک اتمامِ حجت ہے۔جس کے بعد کوئی جائے فرار نہ رہے گی۔اب صوفیوں کا کوئی فرقہ خدا تک پہنچانے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔اس لئے کہ اب اُن کی روشنی اس نیر اعظم کی روشنی میں گم ہو چکی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسے صوفیوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں: