سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 57
57 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ واقعات کا لکھنا مطلوب ہے۔پہلا مرید حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب کو اس وقت یہ خواہش ہوئی کہ اگر اس وقت میرا امنجھلا بیٹا ہو تو اسے میں اپنا مرید کرلوں تا کہ بقا باللہ کا مقام اس کو حاصل ہو۔اس وقت حضرت خواجہ میر درد کی عمر ۱۳ سال کی تھی ان کو خیال آیا کہ وہ اپنی ماں کے پاس سو ر ہا ہوگا تاہم انہوں نے ارادہ کیا کہ خواجہ میر درد کو لا کر اپنی بیعت میں شامل کرلوں۔حجرہ کا دروازہ کھولا باہر اندھیرا گھپ تھا۔نیچے پاؤں رکھا تو محسوس ہوا کہ حجرہ کی سیڑھی پر کوئی سورہا ہے۔دریافت کیا کون ہے ؟ جواب آیا حضور میں ہوں خواجہ میر۔خواجہ میر اپنے باپ کو زندہ دیکھ کر خوشی کے جوش میں رونے لگے۔حضرت خواجہ محمد ناصر نے فرمایا کہ بیٹا روتے کیوں ہو۔خدا تعالیٰ نے ہم کو اپنی عنایت خاص سے عزت بخشی ہے۔میرے ساتھ حجرہ میں آؤ۔چنانچہ سارا واقعہ سنا کر اپنے تیرہ سالہ بچے خواجہ میر کو جو بعد میں میر درد کہلائے بقا باللہ کے مرتبہ پر روحانی طور پر تیرہ سال کی عمر میں بیعت کر کے فائز کر دیا۔حضرت خواجہ میر درد نے اپنی کتاب علم الکتاب میں لکھا ہے کہ حضرت حسنؓ کی روح ان کے ساتھ حجرہ میں سات دن تک رہی۔طریقہ محمدية اس دن سے دنیا میں عالم تصوف میں ایک جدید طریقہ طریقہ محمدیہ کے نام سے جاری ہوا جسے براہِ راست رسول اللہ ﷺ کے فیض سے حضرت امام حسن کی روح مبارک کے ذریعے حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب کو عطا کیا اور حضرت خواجہ میر درد اس سلسلہ محمدیہ میں مریدا ول ہوئے۔اس واقعہ کا ذکر خواجہ میر اثر صاحب نے جو حضرت خواجہ میر ناصر عندلیب کے چھوٹے صاحبزادے تھے نے اپنی ایک کتاب بیان واقع میں اس مندرجہ بالا واقعہ کو فارسی نظم میں لکھا ہے۔جس میں سے چند اشعار میں بطور نمونہ درج کر دیتا ہوں۔فرماتے ہیں ؎ فیض خاص یافت از روح حسن تخم آن را کشت اندر این چمن ہفت روز و شب میان حجره بود پیش چشمش عالمی دیگر کشور