سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 58 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 58

همچنان پر نازل روحانیان 58 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ در شہادت خارج از وہم و گمان یک عبادت با وضو اندریں برائے پنج مکتوبی مدت نشته قیداو نماز در حُجرہ نے فرمود باز گوش چون صوت اقامت می شنود آمده بیرون امامت می نمود چون صلوة فرض را دادے سلام می شد اندر حجرہ نے حرف و کلام آشنائے خواب و خور اصلا نشد قید جسمانی نبود ملتفت سوئے دگر اشیاء نشد ظہور نور رحمانی نبود گوئیا روز ہفتم چونکه در را باز کرد پسر خود را وقف این راز کرد پدر صادق آمد راست بروئے ایں خبر آنکه می باشد پسر بشنو این سخن داشت تشریف شریف این حسن کائے سعادت مند ایں سبب پیوسته بودم در نماز سپ حکم عالیش کردم نماز نسبت خاصے عنایت کرده است راه پیغمبر ہدایت کرده است دعوت امت کنم خلق را امر شد تا بر امر حق دعوت کنم دمین ما دمین محمد هست و بس خالص آئین محمد ہست و بس اس واقعہ کشف پر ایک نظر متصوفین ہند و دیگر بلا دوا مصار کا یہ طریق رہا ہے کہ انہوں نے بڑے بڑے لمبے مجاہدے اور بڑی بڑی محنتیں اور مشقتیں اپنے نفس پر وارد کر لی تھیں۔وہ کم خوردن ، کم گفتن ، کم خفتن پر عمل کیا کرتے تھے۔اور یہ ایک حقیقت ہے کہ روح جو ایک نورانی چیز ہے جسم کی دبیز اور موٹی چار دیواری میں قید ہے۔انسان جو کچھ دیکھتا ہے وہ جسم کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور جو سنتا ہے وہ جسم کے کان سے سنتا ہے اور جو حظ نفس اُٹھاتا ہے وہ جسم کے نفس سے اُٹھاتا ہے۔اسے اس کو چہ کی خبر بھی نہیں ہوتی جس میں روح کی لطافتیں جاگزیں ہوتی ہیں۔